بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

انشورنس کے ساتھ کسی چیزکوخریدنا


سوال

1:کیا حکومت کےطرف سےاقساط پرملنےوالےایسے برقی موٹرسائیکل خریدناجائزہے یا نہیں؟جن میں بائیک انشورنس کی رقم بھی اداکرنی ہو۔ 2:اگرحرام ہوتواس بائیک کےلینےکاشرعی طریقہ بھی بتادیں؟3:اگرکسی نےآدھےاقساط جمع کیےہوں تواس کے متعلق شریعت کے کیا ہدایات ہیں؟

جواب

شرعی قواعد کی روسےکسی سرکاری یا غیرسرکاری کمپنی کےساتھ مروجہ انشورنس کا معاملہ کرناجائزنہیں کیونکہ درحقیقت یہ ایک عقد معاوضہ ہوتا ہے جوسود،قماراورغررپرمشتمل ہوتاہے۔

صورت مسئولہ کےمطابق ایساموٹرسائیکل خریدنا جس میں بائیک انشورنس قسط اداکرنالازمی ہو،جائزنہیں اگرکسی نے ایساعقد کرکےآدھےاقساط اداکیےہوں تواس پراستغفارکرے اورآئندہ ایساعقد کرنے سے اجتناب کرے۔

 

مطلب مهم فيما يفعله التجار من دفع ما يسمى سوكرة .....،وهو أنه جرت العادة أن التجار إذا استأجروا مركبا من حربي يدفعون له أجرته، ويدفعون أيضا مالا معلوما لرجل حربي مقيم في بلاده، يسمى ذلك المال: سوكرة على أنه مهما هلك من المال الذي في المركب بحرق أو غرق أو نهب أو غيره، فذلك الرجل ضامن له بمقابلة ما يأخذه منهم،.....، والذي يظهر لي: أنه لا يحل للتاجر أخذ بدل الهالك من ماله ‌لأن ‌هذا ‌التزام ‌ما ‌لا ‌يلزم.(ردالمحتارمع الدرالمختار،كتاب الجهاد، ‌‌فصل في استئمان الكافر،ج:4، ص:170)

1 – أن عقد التأمين التجاري ذا القسط الثابت الذي تتعامل به شركات التأمين التجاري عقد فيه غرر كبير مفسد للعقد. ولذا فهو حرام شرعا.

2 – أن العقد البديل الذي ‌يحترم ‌أصول ‌التعامل الإسلامي هو عقد التأمين التعاوني القائم على أساس التبرع والتعاون. وكذلك الحال بالنسبة لإعادة التأمين القائم على أساس التأمين التعاوني.(مجلة مجمع الفقه الإسلامي، ج:2، ص:563)


فتویٰ نمبر : 4035/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں