بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تجدید نکاح میں تجدید مہراوربیوی کی رضامندی کاحکم


سوال

طلاق بائن واقع  ہونے کے بعد اگر نیانکاح کروانا ہو تو اس میں مطلقہ عورت کی رضا مندی ضروری ہوگی یانہیں؟2:کیا نیا مہرمقررہوگا یا وہی پرانا کافی ہوگا؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسےطلاق بائن کےبعد تجدید نکاح کرنےکی صورت میں مطلقہ بیوی کی رضامندی ضروری ہوتی ہےنیزیہ بھی واضح رہےکہ تجدید نکاح میں نئےمہرکی تقرری لازمی ہوتی ہے۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں تجدید نکاح میں مطلقہ بیوی کی رضامندی ضروری ہےاورنیامہرمقررکرنا بھی لازم ہے۔

 

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، ''أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌رد ‌ابنته ‌زينب ‌على ‌أبي ‌العاص ‌بن ‌الربيع ‌بمهر ‌جديد ‌ونكاح ‌جديد''.(سنن الترمذي، باب ما جاء في الزوجين المشركين يسلم أحدهما، رقم الحديث:1142، ج:3، ص:439)

والفرق بين الرجعي والبائن اربعة عشر خصلةاحدها الطلاق الرجعي لا يحتاج الى تجديد النكاح والثاني لا يحتاج الى زيادة المهر.....، والرابع لا يحتاج الى رضاء المرأة.....، والبائن خلاف ذلك في هذه كلها.(النتف في الفتاوى للسغدي، ‌‌مطلب الكتاب في اوجه النكاح، ج:1، ص:321،23)


فتویٰ نمبر : 7368/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں