بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی باجماعت نماز پڑھنےمیں گھرسےدوری کااعتبار


سوال

گھرسے مسجد کتنی دورہوتونمازمسجد جا کرپڑھنا واجب ہے؟

جواب

 شریعت مطہرہ کی روسے ہرایسےآزاد،عاقل،بالغ مردپرجماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے جو جماعت کی نمازمیں حاضرہوسکتاہو۔احادیث مبارکہ میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔ اسی طرح جس جگہ تک مسجد کی آذان کی آواز بغیرلاوڈسپیکرکے پہنچتی ہو تووہاں کے لوگوں پرمسجد میں باجماعت نمازادا كرناسنت کفائی ہوتا ہے یعنی اگران میں سے بعض نے بھی مسجد میں باجماعت نمازاداکی توتمام اہل مسجد کا ذمہ فارغ ہوجائےگاورنہ تمام اہل مسجد سنت ترک کرنے کی وجہ سےگناہ گارہونگےالبتہ عذرکی بنا پرجماعت کےساتھ نمازپڑھنےکاحکم ساقط ہوجاتاہے،معذورین میں مریض(جوچلنےسےعاجز ہو)،اپاہچ،لنگڑا،مفلوج،بہت ضعیف بوڑھااورنابیناوغیرہ داخل ہیں۔

 

عن علي قال: لا ‌صلاة ‌لجار ‌المسجد ‌إلا ‌في ‌المسجد. قال الثوري في حديثه قيل لعلي: ومن جار المسجد؟ قال: من سمع النداء. (مصنف عبد الرزاق، باب من سمع النداء، ج:1، ص:497)

وتسقط ‌الجماعة ‌بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة، قال أبو يوسف سألت أبا حنيفة عن الجماعة في طين وردغة فقال لا أحب تركها والصحيح أنها تسقط بعذر المرض والطين والمطر والبرد الشديد والظلمة الشديدة. (تبيين الحقائق،الأحق بالإمامة، ج:1، ص:133)

الجماعة ‌في ‌المسجد على الكفاية.(البناية شرح الهداية، ج:2، ص:550)

دل فعل هؤلاء أن ‌الجماعة ‌في ‌المسجد سنة على سبيل الكفاية.(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص157)

دل فعل هؤلاء أن ‌الجماعة ‌في ‌المسجد سنة على سبيل الكفاية.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،ص413)

صلاة ‌الجماعة ‌واجبة على الراجح في المذهب أو سنة مؤكدة في حكم الواجب كما في البحر وصرحوا بفسق تاركها وتعزيره. (ردالمحتارمع الدرالمختار، ج:1، ص:457)


فتویٰ نمبر : 10897/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں