بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جیل میں نماز جمعہ پڑھنا


سوال

ہم جیل میں قیدی ہیں یہاں ایک احاطہ میں تقریبََا 70 بندے ہیں جمعہ کے دن ہم جمعہ پڑھیں گے یا ظہر؟ اوراگر جمعہ نہیں تو ظہر کی جماعت ہوگی یا نہیں اور نماز کے لیے اذان دیں گے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ  نماز جمعہ  ہر اس جگہ پڑھی جا سکتی ہے جس میں وہ تمام شرائط موجود ہو ں جو فقہاء کرام نےصحت  جمعہ  کے لئے بیان فرمائی ہیں۔ ان شرائط میں سے ایک  شرط  اذن عام کا ہونا  بھی ہے  تاہم اس کے بارے میں فقہاء کرام نے  لکھا ہے کہ یہ شرط اس وقت  ہے جب کہ نماز ِجمعہ صرف ایک جگہ میں ادا ہوتی ہو تاکہ ہر شخص کے لئے نماز جمعہ پڑھنا ممکن ہو اور اگر نماز جمعہ متعدد جگہوں میں ادا ہوتی ہوتو پھر اذن عام کی شرط کا پایا جانا ضروری نہیں نیز یہ بھی یاد رہے کہ  اگر کسی جگہ نماز جمعہ پڑھی جارہی ہواور وہ جگہ شہر کے اندر ہو اور وہاں دفاعی، انتظامی یا حفاظتی وجوہ کی بناپر کچھ قواعد وضوابط مقرر ہوں تو یہ اذن عام کی منافی نہیں۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر جیل میں ستر (70) بندے ہوں اور وہ جیل شہر کے حدود یا مضافات میں ہو اور جمعہ پڑھنے پر پابندی نہ ہو تو ایسی صورت میں  وہاں اذان اور خطبہ کے ساتھ جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔

 

 (وكره) تحريما (لمعذور ومسجون) ومسافر (أداء ظهر بجماعة في مصر) ‌قبل ‌الجمعة ‌وبعدها ‌لتقليل الجماعة وصورة المعارضة، وأفاد أن المساجد تغلق يوم الجمعة إلا الجامع(وكذا أهل مصر فاتتهم الجمعة) فإنهم يصلون الظهر بغير أذان ولا إقامة ولا جماعة.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار.  ص: 110 )

وينبغي أن يكون محل النزاع ما إذا كانت لا تقام إلا في محل واحد، أما لو تعددت فلا لأنه لا يتحقق التفويت۔( رد المحتار على الدر المختار:كتاب الصلاة،باب الجمعة،ج 3،ص26)

 (والإذن العام) وهو أن يفتح أبواب الجامع للواردين قالوا: السلطان إذا أراد أن يصلي بحشمه في داره ‌فإن ‌فتح ‌الباب ‌وأذن ‌إذنا ‌عاما جازت الصلاة ولكن يكره وإلا لم يجز كما في الكافي وما لا يقع في بعض القلاع من غلق أبوابه خوفا من الأعداء أو كانت له عادة قديمة عند حضور الوقت فلا بأس به لأن إذن العام مقرر لأهله ولكن لو لم يكن لكان أحسن كما في شرح عيون المذاهب۔)مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 166


فتویٰ نمبر : 10881/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں