بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قرض پر یومیہ نفع لینے کا حکم
سوال
میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں بطورِ منشی (منیجر) فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ کراچی سے طورخم بارڈر تک چلنے والی بڑی گاڑیوں کے تمام تر انتظامات (ڈیزل، مرمت، ڈرائیوروں کا علاج اور دیگر ہنگامی اخراجات) میری ذمہ داری ہے۔ اب تک میں کمپنی کے ان کاموں پر اپنی جیب سے تقریباً 96 لاکھ 35 ہزار روپے خرچ کر چکا ہوں، جو کمپنی کے ذمے میرا قرض ہے۔آج کل طورخم بارڈر پر حالات کی خرابی کی وجہ سے گاڑیاں وہاں رکی ہوئی ہیں۔ کمپنی رکی ہوئی گاڑیوں پر روزانہ 36,000 روپے چارج (ڈیمریج یا ویٹنگ چارجز) وصول کر رہی ہے، جس میں سے 11,000 روپے روزانہ کمپنی مجھے میرے لگائے ہوئے 96 لاکھ روپے کے "نفع" کے طور پر دینا چاہتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس قرض کی رقم پر یہ روزانہ کا نفع وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے، تو اس قرض پرکسی بھی قسم کا نفع لینا جائز نہیں ہے، چاہے وہ نفع مشروط (پہلے سے طے شدہ) ہو یا معروف ہو یعنی عرف میں رائج ہو کیونکہ یہ سود کے حکم میں آتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کمپنی کے کاموں پر سائل نے جو رقم 96 لاکھ 35 ہزار روپےخرچ کیے ہیں اور وہ کمپنی کے ذمے قرض ہے اب اس قرض کی بنیاد پر کمپنی کا سائل کو روزانہ 11,000 روپے "نفع" کے طور پر دینا شرعاً جائز نہیں ، یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔
قال اللہ تعالیٰ:﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾(سورۃالبقرة:275)
قوله كل قرض جر نفعا حرام أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر.( رد المحتار على الدر المختار، باب المرابحة والتولية، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں