بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

غسل کرتے وقت پانی کی چھینٹیں برتن میں موجود پانی میں گرنے کا حکم


سوال

اگر دورانِ غسل جسم سے پانی کےکچھ قطرےگرکرغسل کے لیے استعمال ہونے والے پانی کےٹب میں گریں تواس ٹب کے پانی کا کیاحکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ اگرغسل کرنے والے کے جسم پرکوئی ظاہری نجاست نہ ہواورغسل کرتےوقت پانی کے چھینٹیں برتن یاٹب میں گرجائیں توایسی صورت میں برتن یا ٹب میں موجود پانی نجس نہیں ہوگا۔البتہ اگر جسم پر کوئی ظاہری نجاست ہواوراسےدھوتےوقت ناپاک پانی کاچھینٹا برتن میں گر جائے تو اس سےپانی نجس ہوگا۔

 

جنب اغتسل فانتضح من غسله شيء في إنائه لم يفسد عليه الماء. أما إذا كان يسيل منه سيلانا أفسده، وكذا حوض الحمام على قول محمد - رحمه الله - لا يفسده ما لم يغلب عليه يعني لا يخرجه من الطهورية. كذا في الخلاصة.(الفتاوى الھندیۃ،کتاب الطھارۃ،الفصل الثانی فیما لایجوز بہ الوضوء،ج:1،ص:75)


فتویٰ نمبر : 10890/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں