بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سفر شرعی کے حدود


سوال

ہم تاج آباد پشاور میں رہتے ہیں ہمارے لیے قصر نماز کہاں سے شروع ہوگی؟ کیا تاج آباد کی حدود سے نکل کر یا پشاور کی حدود سے نکل جائے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص شرعاً مسافر اس وقت شمار ہوتا ہے، جب وہ اپنے شہر یا گاؤں کے حدود سے(78) کلو میٹریا اس سے زیادہ مسافت پر جانے کا قصد کرلے اور اپنے شہر یا گاؤں کی حدود سے نکل جائے۔ اور عرف عام کے اعتبار سے گاؤں کے حدود جہاں سے شروع ہوتے ہیں اور جہاں پر ختم ہوتے ہیں تو سفر کے احکام گاؤ ں کے حدود کے بعد سے شروع ہونگے۔ البتہ اگر قانونی طور پر گاؤں کے حدود کی تعیین کی جائے تو سہولت کی خاطر اس کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جب کوئی تاج آباد (پشاور) کا رہائشی شخص پشاور سے 78 کلو میٹر یا اس سے زیادہ مسافت کا قصد کرکے پشاور کی حدود سے نکل جائے تواس وقت وہ مسافر شمار ہوگا اور قصر کی نماز پڑھے گا۔

 

 قوله ( من خرج من عمارة وضع إقامته ) أراد بالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية لأن بها عمارة موضعها قال في الإمداد فيشترط مفارقتها ولو متفرقة۔۔ وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإفاقة كربض المصر وهوما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر ۔۔۔وأما الفناء وهو المكان المعد لمصالح البلد كركض الدواب ودفن الموتى وإلقاء التراب فإن اتصل بالمصر اعتبر مجاوزته وإن انفصل بغلوة أو مزرعة فلا ۔(رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج:2، ص:299)


فتویٰ نمبر : 10879/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں