بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بینک کےذریعے رقم ٹرانسفرکرکےدوسرے کے اکاؤنٹ میں تاخیرسے جمع ہونا


سوال

زید نےعمروسے 10 لاکھ روپےکےسامان کی خریداری کی،اورقیمت بینک کےذریعےٹرانسفرکرناطے پایا۔ زیدنےاپنےبینک سےعمروکےبینک اکاؤنٹ میں رقم آن لائن ٹرانسفرکی،اوربینک نے یہ پیغام دیا کہ"رقم کامیابی سےٹرانسفرہوچکی ہے"۔ تاہم عمروکا کہناہےکہ ابھی تک اس کے اکاؤنٹ میں رقم نہیں پہنچی (بینکنگ پراسیس میں تاخیر ہے)۔اب سوال یہ ہے کہ:1۔ شرعاً یہ رقم عمروکے قبضے میں آچکی ہے یا نہیں؟2۔اگرابھی اس کےاکاؤنٹ میں رقم ظاہرنہیں ہوئی، تو کیا وہ مال خریدارکو دینے کاپابندہو گایانہیں؟ 3۔کیا بینک کی رسید یا آن لائن میسج شرعاً قبضہ ثابت کرنےکےلیےکافی ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ رقم یا دوسری کوئی چیزکسی کودینے یابھیجنےکی صورت میں وصول کنندہ کا قبضہ تب ثابت ہوتاہےجب وہ اس کوپہنچ جائےاوروہ اس پرقبضہ کرلےورنہ صرف بھیجنے سے وصول کنندہ کا قبضہ متحقق نہیں ہوتاکیونکہ اس بات کا قوی امکان موجودہے کہ رقم یا وہ چیز بھیجنے والا بھیجے لیکن وصول کنندہ تک نہ پہنچ پائے نیزیہ بھی واضح رہے کہ ہرچیزپرقبضہ اس کے مناسب طریقے سےہوتاہےچنانچہ موجودہ دورمیں بینک اکاؤنٹ کےذریعے سے پیسے ٹرانسفرکرنےکی صورت میں وصول کنندہ کا قبضہ ان پیسوں پر تب ثابت ہوگا جب اس کے اکاؤنٹ میں پیسےجمع ہوجائیں ورنہ اگر بھیجنےوالے نےرقم بھیجی ہولیکن وصول کرنے والے کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوئی توصرف بھیجنےسےاس کا ذمہ فارغ نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ کےمطابق 1:اگرزیداپنے بینک سےعمروکے بینک اکاؤنٹ میں رقم آن لائن ٹرانسفرکرےاوربینک سے رقم کے ٹرانسفرہونےکا پیغام بھی ملےلیکن جب تک عمروکےاکاؤنٹ میں رقم جمع نہ ہوئی ہو،عمرو کا قبضہ ثابت نہیں ہوگا۔

2:بیچنےوالا اس وقت تک خریدارکوسامان دینےکا پابند نہیں ہوگاجب تک اس نےثمن وصول نہ کیا ہو، البتہ اگراپنی مرضی سےخریدارکوسامان دیناچاہے تو دےسکتاہے۔

3:بينک كی رسيد،بینک چیک،بینک ڈرافٹ وغیرہ پرقبضہ اس وقت حکما قبضہ شمارہوتاہےجب چیک جاری کرنےوالےکےاکاؤنٹ میں درج شدہ رقم موجود ہواوروصول کنندہ کےلیےوصولی میں کوئی رکاوٹ نہ ہواس طرح وصول کرنےوالےکواس کےاکاؤنٹ میں رقم جمع ہوجانےکی تصدیق کےطورپرمیسج مل جانےسےبھی قبضہ ثابت ہوجائےگا۔

 

قال: "ومن باع سلعة بثمن قيل للمشتري ادفع الثمن أولا"؛ لأن حق المشتري تعين في المبيع فيقدم دفع الثمن ليتعين حق البائع بالقبض لما أنه لا يتعين بالتعيين تحقيقا للمساواة.(الھدایۃ، كتاب البيوع، ج:3، ص:29)

معنى القبض هو التمكين، والتخلي، وارتفاع الموانع عرفا وعادة حقيقة.(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، ج:5، ص:148)

يعد من القبض الحكمي قبض المستفيد للشيك المصرفي(Bank draft)أوالشخصي(Personal Cheque) المضمون السداد من البنك المسحوب عليه،ويعد ذلك قبضا لمضمونه ولوتأخرالتحصيل الفعلي لمبلغه.(المعاييرالشرعية،المعيارالشرعي رقم 18''القبض''، البند5/1)

من ‌صورالقبض ‌الحكمي ‌المعتبرة ‌شرعا ‌وعرفا.....، 2- تسلم الشيك إذا كان له رصيد قابل للسحب بالعملة المكتوب بها عند استيفائه وحجزه المصرف.(مجلة مجمع الفقه الإسلامي، القبض الحقيقي والحكمي، ج:6، ص:592)


فتویٰ نمبر : 4023/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں