بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
باپ کااپنی جگہ پربیٹےوغیرہ کوکھانےکی دعوت پربھیجنا
سوال
اگروالد صاحب کوکسی نےدعوتِ طعام پرمدعوکیا ہواوروہ کسی وجہ سے خود نہ جا سکیں،اوراپنے بیٹے سے کہیں کہ:"مجھے فلاں نے کھانے پر بلایا ہے، میں نہیں جا رہا، تم میری جگہ چلے جاؤ۔"اب سوال یہ ہے کہ:1. کیا شرعاً والد کے لیے اپنی جگہ بیٹے کوبھیجنا درست ہے؟2.کیا بیٹے کے لیے ایسی دعوت میں جانا شرعاً درست ہوگا،جب کہ دعوت دراصل والد کے نام پر تھی؟
جواب
واضح رہے کہ عام طورپرکھانے کی دعوت دو قسم کی ہوتی ہیں؛1:دعوت خاص ،جو کہ چند خاص لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔2:دعوت عام جیسے ولیمہ وغیرہ جوکہ خاص اورعام سب لوگوں کےلیے ہوتاہے۔ اگر دعوت خاص ہو یعنی خاص افراد کےلیےبنائی گئی ہوتوایسی صورت میں جس شخص کودعوت دی گئی ہووہ اپنی جگہ کسی دوسرےمثلا:اپنے بیٹےوغیرہ کو دعوت میں شرکت کے لیے نہیں بھیج سکتااوراگردعوت عام ہوتواس میں عام عرف کے اعتبارسےفیصلہ کیا جائے گا،تواگرعرف میں دعوت دینے کامطلب یہ سمجھا جاتاہوکہ آپ لوگوں کی طرف سےکسی نے دعوت میں شرکت کرنی ہے تو ایسی صورت میں مدعو شخص کاگھرکےکسی دوسرےفردکو اپنی جگہ دعوت پربھیجناجائزرہے گا۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگردعوت خاص ہو جس میں باپ کی شرکت ضروری ہوتواس صورت میں اپنے بیٹے کودعوت پربھیجنا جائز نہیں کیونکہ داعی اس کے بیٹے کی شرکت پرراضی نہیں اوراگردعوت عام ہواورداعی کامقصد بھی یہی ہو کہ آپ لوگوں کی طرف سے کوئی شرکت کرےتواس صورت میں باپ اپنی جگہ پر بیٹے کو بھیج سکتاہےاوربیٹے کے لیے جانااوردعوت میں شرکت کرناشرعاجائز ہوگا۔
قال عبد الله بن عمر : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله، ومن دخل على غير دعوة دخل سارقا، وخرج مغيرا".(سنن أبي داود،باب ما جاء في إجابة الدعوة، رقم الحديث:3741، ج:3، ص:395)
العرف إنما يعتبر فيما لا نص بخلافه.( المبسوط للسرخسي،ج:14، ص:136)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں