بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

نمازیوں کے آگےپردہ ہونے کی صورت میں سترے کا حکم


سوال

مسجد کے درمیان چھت سے پردہ  لٹکا ہوا ہے اس پردے سے آگے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جاتی ہے جبکہ پیچھے لوگ سنتیں یا نوافل پڑھتے ہیں تو کیا یہ پردہ پیچھے لوگوں کے لیے سترہ بن سکتا ہے یا نہیں؟ اگر زمین سے لگا ہوا ہو یا اس سے اوپر ہودونوں صورتوں میں حکم کیا ہوگا؟

جواب

واضح رہےکہ سترہ کا زمین کے ساتھ چپکا ہوا ہونا ضروری نہیں، بلکہ اگر چھت کے ساتھ لٹکا ہوا پردہ نماز ی کے سامنےہو،  تو وہ بھی سترہ کا قائم مقام شمار ہوگا۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں چھت سے لٹکا ہوا  پردہ اگر نمازی کے سامنے ہو ،تو یہ بھی سترہ کے حکم میں ہے ، اور اس کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں اگر چہ وہ زمین کے ساتھ نہ لگ رہا ہو۔

 

 (قوله ولو ستارة ترتفع) أي تزول بحركة رأسه إذا سجد، وهذه الصورة ذكرها سعدي جلبي جوابا عن صاحب الهداية حيث اختار أن الحد موضع السجود كما مشى عليه المصنف، فأورد عليه أنه مع الحائل كجدار أو أسطوانة لا يكره والحائل لا يمكن أن يكون في موضع السجود. فأجاب سعدي جلبي بأنه يجوز أن يكون ستارة معلقة إذا ركع أو سجد يحركها رأس المصلي ويزيلها من موضع سجوده ثم تعود إذا قام أو قعد. اهـ. وصورته أن تكون الستارة من ثوب أو نحوه معلقة في سقف مثلا ثم يصلي قريبا منها فإذا سجد تقع على ظهره ويكون سجوده خارجا عنها وإذا قام أو قعد سبلت على الأرض وسترته تأمل. (رد المحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:636 )

(‌قوله ‌وغلظ ‌أصبع) ‌كذا ‌في ‌الهداية، لكن جعل في البدائع بيان الغلظ قولا ضعيفا، وأنه لا اعتبار بالعرض. وظاهره أنه المذهب بحر، ويؤيده ما رواه الحاكم وقال على شرط مسلم أنه صلى الله عليه وسلم قال:"يجزي من السترة قدر مؤخرة الرحل ولو بدقة شعرة". ( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:637)


فتویٰ نمبر : 10876/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں