بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا


سوال

ایک عورت (سلطانہ) نے اپنی بیٹی (نبیلہ) اور ایک لڑکے (محمد حسن) کو ایک ساتھ دودھ پلایا ہے، محمد حسن کا ایک عینی بھائی (محمد نبی ) ہے، کیا محمد نبی کا نکاح محمد حسن کی رضاعی بہن (نبیلہ) کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے والے بچے کے لیے دودھ پلانےوالی عورت اور اس کے اصول وفروع سے نکاح کرناجائز نہیں، لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے کے ساتھ خاص ہے، اس کے دوسرے بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتی۔ لہذا صورت مسئولہ میں محمد نبی کااپنے حقیقی بھائی( محمد حسن) کی رضاعی بہن (نبیلہ) سےنکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 

ولو أرضعت أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها.(المبسوط للسرخسي، باب تفسيرلبن الفحل، ج: 30، ص: 301)

(وتحل أخت أخيه رضاعاً) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعاً أخت نسباً وبهما وهو ظاهر.۔(ردالمحتار علی الدر المختار،باب الرضاع، ج:3، ص:217)


فتویٰ نمبر : 7366/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں