بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

حرام مال میں زکوۃ کا وجوب


سوال

اگر کسی شخص کے ساتھ حرام مال ہو اور اس کی وجہ سے وہ صاحب نصاب بن جائے، تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے ساتھ حرام مال ہو، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس حرام مال کو اس کے مالک تک پہنچادے، اگر مالک معلوم نہ ہو سکے، تواس مال کو بغیر نیت ثواب صدقہ کرکے اپنے ذمے کو فارغ کرےگا۔ حرام مال چونکہ واجب التصدق ہے اس لئے اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔

 

(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه.(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الزکوة، باب زکوةالغنم، ج:3، ص218)

و الحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب ردّه عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحلّ له ويتصدّق به ۔ (رد المحتار علی الدرالمختار،باب البیع الفاسد، مطلب في من ورث مالًا حرامًا،ج:5، ص:99)


فتویٰ نمبر : 10875/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں