بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سیرت النبی ﷺمقابلےمیں شرکت کرکے انعام لینا


سوال

ایک مال دار شخص نے ایک پرائیویٹ اسکول کے نگران سے کہا کہ آپ ٹیلنٹ ٹیسٹ کے تحت سیرت النبی ﷺمقابلے کا انعقاد کریں، شرکاء کے درمیان مقابلہ ہونے کے بعد اول، دوم سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو بالترتیب 3لاکھ،2لاکھ اور 1لاکھ  روپے میری طرف سے دیے جائیں گے،اب اسکول والوں نے اس مقابلے میں شرکت کرنے کے لیے 500 روپے انٹری فیس مقرر کی ہے،تاکہ اس سے پروگرام وغیرہ کے اخراجات پورے کیے جائیں  اب اس مقابلے میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں، اور یہ صورت قمار (جوا)میں داخل ہوگی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  مسابقہ میں اگر جانبین کے علاوہ تیسرے آدمی کی طرف سے انعام مقرر کیا گیا ہو تو یہ جائز ہے،کیونکہ   جس طرح   گھوڑوں اور اونٹوں کے دوڑ کی اور تیر اندازی کا مسابقہ کرنا جائز اور ثابت ہے اسی طرح  فقہاء کرام نے ہر اس مسابقہ کی اجازت دی ہے جس سے کوئی دینی یا دنیاوی جائز مقصد وابستہ ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ کے ہر پہلو سے لوگوں کو خبردار کرنااور ان میں سنت پر عمل کرنے کا جذبہ اجاگر کرنا بھی ایک اہم دینی مقصد ہے لہذا اس جیسی محفل میں کسی شخص کی طرف سے اول ،دوم ،سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کے لیے انعام مقرر کرنا  قمار کے حکم میں داخل نہیں ہے اور اس میں شرکت کرنا جائز ہے ،نیز اسکول  انتطامیہ کو چاہیئے کہ انٹری فیس کی رقم کو واقعتاً پروگرام  کے اخراجات کےلیے   استعمال کرے ان رقوم کوپیسہ کمانے کا ذریعہ نہ بنائے ۔

 

وما يفعله الأمراء فهو جائز أيضا بأن يقولوا لاثنين: أيكما سبق فله كذا.( الفتاوى الهندية، کتاب الحظر والإباحة، باب المسابقة، ج:5، ص:324)

(قوله من جانب واحد) ...أو يقول الأمير لفارسين أو راميين من سبق منكما فله كذا. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:578)  

(و) كذا الحكم (في المتفقهة) قوله وكذا الحكم في المتفقهة أي على هذا التفصيل وكذا المصارعة على هذا التفصيل وإنما جاز، لأن فيه حثا على الجهاد وتعلم العلم. (رد المحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:577)


فتویٰ نمبر : 6605/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں