بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سجدہ سہو واجب نہ ہونے کی صورت میں سجدہ سہوکرنا


سوال

اگر کسی شخص پرسجدہ سہو واجب نہ ہو لیکن لا علمی کی وجہ سےسجدہ سہو کرے تو نماز کا کیا حکم ہے؟نماز کو دوبارہ لوٹانا چاہیے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نماز میں کوئی ایسی غلطی ہوجائےجس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب  نہ ہوتا ہو، لیکن لاعلمی کی وجہ سے سجدہ سہو کیا جائےتو اس سے نماز پر اثر نہیں پڑتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے نماز میں سجدہ سہو واجب ہوئے بغیرلا علمی کی وجہ سے سجدہ سہو کیا ہوتواس کی نماز صحیح ہے۔

 

إذا ظن الإمام أنه عليه سهواً فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم أن الإمام لم يكن عليه سهو فيه روايتان ... وقال الإمام أبو حفص الكبير: لايفسد، والصدر الشهيد أخذ به في واقعاته، وإن لم يعلم الإمام أن ليس عليه سهو لم يفسد صلاة المسبوق عندهم جميعا. ( خلاصة الفتاوى، كتاب الصلوة، الفصل الخامس عشر في الإمامة والإقتداء، ج:1، ص:163 )

ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد.قال ابن عابدين: قوله (فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب. ( الدرالمختارمع ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:2، ص:350 )


فتویٰ نمبر : 10871/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں