بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نذر معلق کو واقع ہونے سے پہلے تبدیل کرنا


سوال

میں نے نذر مانی کہ میر افلاں کام ہو گیا تو میں 20 روزے رکھوں گا لیکن ابھی تک وہ کام نہیں ہوا ہے کہ میں نے دوبارہ کہا کہ میں 20 روزے نہیں رکھ سکتا بلکہ دس 10 روزے رکھوں گا اب آگر وہ کام ہو گیا تو میں کتنے روزے رکھوں گا؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص  نذر کو کسی  شرط کے ساتھ معلق کردے تو شرط کے موجود ہونے کے ساتھ نذر کی ادائیگی واجب ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں جس کام  کے ہونے پر 20 روزے رکھنے کی نذر مانی تھی،تو اس کام کے ہو جانےپر 20 روزے رکھنا ہی لازم ہے۔اس نذر میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔

 

قال الله تعالى: ﴿ ‌وليوفوا نذورهم ﴾  [الحج: 29]

(ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (‌ووجد ‌الشرط) ‌المعلق ‌به (‌لزم ‌الناذر) لحديث "من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى" (كصوم وصلاة وصدقة). ( رد المحتار، كتاب الأيمان، ج:3، ص:735 )

والنذر ‌في ‌معنى ‌الطلاق والعتاق؛ لأنه لا يحتمل الفسخ بعد وقوعه. ( البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الصوم، فصل ما يوجبه العبد على نفسه، ج:2، ص:319 )

والنذر...ولا يحتمل الفسخ بعد وقوعه، وعن علي رضي الله عنه قال: ثلاث لا لعب فيهن: الطلاق، والعتاق، والصدقة يعني النذر بالصدقة. ( المبسوط للسرخسي، كتاب الإكراه، ج:24، ص:42 )


فتویٰ نمبر : 6603/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں