بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

حیض کی حالت میں آیاتِ قرآنی لکھنا اوریاد کرنا


سوال

شرعی عذر(حیض) کی حالت میں  قرآنی آیتیں جو کتابوں میں لکھی ہوئی ہوتی ہیں ان کو طالبہ کےلیے یاد کرنا اور سنانا،اور پرچے میں لکھنے کی اجازت ہے یانہیں؟کیوں کہ ان آیات کا لکھنا ،پڑھنا اور یادکرکے سنانا امتحان کےلیے ضروری ہوتاہے۔

جواب

جاننا چاہیے کہ دورانِ حیض عورت کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت منع ہے، البتہ تعلیمی ضرورت کے تحت   شرعًا اس بات کی اجازت ہےکہ طالبات قرآن کریم کی تلاوت کرے تو  کلمہ کلمہ، لفظ  لفظ الگ الگ کرکے پڑھے، یعنی ہجے  کرکے  پڑھے، مثلًا: الحمد ... للّٰه ... ربّ ... العالمین، مخصوص اَیّام میں خواتین کے لیے ہجے کرکے پڑھنا  اور سناناجائز ہے، لیکن روانی کے ساتھ مکمل آیت کا پڑھنا یا سنانا جائز نہیں،نیز زبان کو حرکت دیے بغیر دل ہی دل میں پڑھنے کی اجازت ہے۔نیز ماہواری کے ایام میں اگر آیت لکھنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لئے کاغذ وغیرہ کو ہاتھوں میں پکڑتے اور اٹھاتے ہوئے یا ‏آیات کو چھوتے ہوئے آیت تحریر کرنا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، البتہ کاغذ پر ہاتھ رکھے اور اسے چھوئے بغیر زمین یا میز وغیرہ  پر ‏رکھ کر صرف قلم کی نوک سے آیات لکھنے کی گنجائش ہے، تاہم مکروہِ تنزیہی ہونے کی بناء پراس‏صورت سے بچنا بھی بہتر  ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿ لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ ﴾(الواقعة:79)

عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"لا ‌تقرأ ‌الحائض، ‌ولا ‌الجنب شيئا من القرآن". ( سنن الترمذي، باب ما جاء في الجنب والحيض انهما لا يقرآن القرآن، رقم الحديث:131 )

(‌قوله ‌وقراءة ‌قرآن) ‌أي ‌ولو ‌دون ‌آية ‌من ‌المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمة كلمة كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور كما قدمه المصنف (قوله بقصده) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به. ( رد المحتار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:293 )

ويكره للجنب والحائض أن يكتبا الكتاب الذي في بعض سطوره آية من القرآن ‏وإن كانا لا يقرآن القرآن والجنب لا يكتب القرآن وإن كانت الصحيفة على ‏الأرض ولا يضع يده عليها وإن كان ما دون الآية وقال محمد أحب إلي أن لا ‏يكتب وبه أخذ مشايخ بخارى. هكذا في الذخيرة. ( الفتاوى الهندية:كتاب الطهارة،الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،ج:1،ص:39 )

قال ح: لكن لا يحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب: أي موضع الكتابة كذا ‏في باب الحيض من البحر، وقيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دونها لا يكره مسه ‏كما في حيض القهستاني. وينبغي أن يجري هنا ما جرى في قراءة ما دون آية ‏من الخلاف، والتفصيل المارين هناك بالأولى؛ لأن المس يحرم بالحدث ولو ‏أصغر، بخلاف القراءة فكانت دونه تأمل.‏(رد المحتار على الدر المختار:كتاب الطهارة،سنن الغسل،ج:1،ص:173)


فتویٰ نمبر : 10871/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں