بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

والدین، شوہر اور دوبیٹوں کے درمیان تقسیم میراث


سوال

ایک عورت وفات ہوئی ہے اس کے ورثا ميں سے دو بيٹے، شوہر اور والدین حیات ہیں، شرعاً ان کے درمیان میراث کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

میــــ(24)ـــــــــــــــــــــــــــــت

ماں    باپ     شوہر      بیٹا      بیٹا

4      4        6          5        5

بشرط صدق وثبوت اگر مرحومہ کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد ازادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحومہ کا ترکہ چوبیس( 24 )حصوں میں تقسیم ہو کراس کے والدین میں سے ہر ایک کو 4/24 حصے، شوہر کو 6/24 حصے، جبکہ دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو 5/24 حصے ملیں گے۔

 

قال الله تعالى:﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ﴾ [ سورۃ النساء،آیت:11] 

وقال تعالى:﴿فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ [سورۃ النساء:آیت: 12] 

عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌ألحقوا ‌الفرائض بأهلها فما تركت الفرائض فلأولى رجل ذكر.

(صحيح البخاري،كتاب الفرائض،باب ابني عم أحدهماأخ للأم والآخر زوج،رقم الحديث:6746،ج:8،ص: 153)


فتویٰ نمبر : 4241/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں