بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

منذور چیز کی جگہ اس کی قیمت دینا


سوال

ایک آدمی نے نذر مانی کہ اگر میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں فلاں موٹر سائیکل صدقہ کردوں گا، لیکن جب بیٹا پیدا ہوا تو اب وہ کہتا ہے کہ میں اس کے برابر پیسے صدقہ کرتا ہوں۔ تو کیا شرعا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی معین چیز کی نذر مان لے تو اس کے لیے اس چیز کے بدلے اس کی قیمت دیناجائز ہے۔

صورت مسٔولہ کے مطابق اگر کوئی شخص معین موٹر سائیکل کی نذر مان لے اور بعد میں اس کی قیمت دینا چاہے تو یہ شرعا جائز ہے۔

 

ويجوز دفع القيم في الزكاة عندنا، وكذا في الكفارات وصدقة الفطر والعشر والنذر كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الفصل الثاني في العروض، ج:1، ص:243)

النذر إما أن يكون بالصدقة أو بالصوم أو الصلاة أو الاعتكاف ۔۔۔أو يعين الدرهم فيقول لله علي أن أتصدق بهذا الدرهم و في الوجوه كلها يلزمه التصدق بالمنذور عندنا ويلغو اعتبار ذلك التقييدحتى لوتصدق به قبل مجيء ذلك الوقت أو في غيرذلك المكان أو على غيرذلك المسكين أو بدرهم غيرالذي عينه خرج عن موجب نذره. (المبسوط للسرخسي، كتاب الصوم،ج:، ص:129)


فتویٰ نمبر : 6603/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں