بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نئے اور پرانے نوٹوں کا کمی اور زیادتی کے ساتھ تبادلہ


سوال

میں اکثر اپنے ساتھ نئے نوٹ رکھنے کا شوقی ہوں، لیکن جب میں ان  نوٹوں کو خریدتا ہوں تو مجھے 100 روپے کے بدلے 120 دینے پڑتے ہیں، کیا یہ سود ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ جو نوٹ ایک ہی ملک کے ہوتے ہیں اور ایک ہی قسم کی مالیت رکھتے ہیں وہ خواہ پرانے ہوں یا نئے ہوں، لیکن ان کا آپس میں تبادلہ برابری کے ساتھ لازم ہے کمی زیادتی کے ساتھ ان کا باہم تبادلہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ کمی بیشی کے ساتھ خرید نا جائزنہیں یہ سود کے زمرے میں آتاہے اس سے اجتناب لازم ہے۔

 

قال: "‌فإن ‌باع ‌فضة ‌بفضة ‌أو ذهبا بذهب لا يجوز إلا مثلا بمثل وإن اختلفا في الجودة والصياغة" لقوله عليه الصلاة و السلام: "الذهب بالذهب مثلا بمثل وزنا بوزن يدا بيد والفضل ربا" الحديث. وقال عليه الصلاة والسلام: "جيدها ورديئها سواء" وقد ذكرناه في البيوع.( الهداية في شرح بداية المبتدي،‌‌كتاب الصرف،ج:3،ص:81)


فتویٰ نمبر : 4018/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں