بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وکیل بالبیع کی اُجرت متعین قیمت سے زائد مقرر کرنا


سوال

ایک دکان میں دو دوست موبائل فون کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص موبائل فون کی ریپیئرنگ (مرمت) کا کام کرتا ہے، جبکہ دوسرا شخص موبائل فون کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے۔ موبائل فون کی خرید و فروخت کرنے والے شخص نے دکان میں موجود ہر موبائل فون کی ایک مقررہ قیمت طے کر رکھی ہے، مثلاً کسی موبائل کی قیمت 50,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ وہ اپنے ساتھی (جو مرمت کا کام کرتا ہے) سے یہ کہتا ہے کہ اگر میری غیر موجودگی میں کوئی گاہک آ جائے تو آپ ان موبائل فونز کو گاہک کے ساتھ بات چیت کر کے فروخت کر دیا کریں، اور اگر آپ مقررہ قیمت (مثلاً 50,000 روپے) سے زیادہ پر موبائل فروخت کر لیں، تو مقررہ قیمت سے زائد جتنی رقم ہو گی، وہ آپ کی ہوگی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی موبائل جس کی قیمت 50,000 روپے مقرر ہے، 55,000 روپے میں فروخت ہو جائے تو اضافی 5,000 روپے مرمت کرنے والے شخص کے لیے ہوں گے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: 1. اس معاملے کی شرعی و فقہی تکییف کیا ہے؟ 2. کیا اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ 3. اگر یہ صورت جائز نہیں ہے، تو کیا اس معاملے کی کوئی جائز اور درست شرعی صورت ممکن ہے؟ اگر ممکن ہو تو اس کی وضاحت فرما دیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اپنی کوئی چیز بیچنے کا کہے تو یہ وکالت کا معاملہ ہے اوروکالت اُجرت کے عوض بھی ہوسکتی ہے اور بلا عوض بھی ۔البتہ جب اُجرت کے عوض ہو تو اُجرت کا معلوم ومتعین ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر اُجرت مجہول ہو توعقد فاسد ہوگا ۔

صورت مسئولہ میں موبائل کا مالک، مرمت کرنے والے کو موبائل بیچنے کا وکیل بناتاہے لیکن وکالت کی اُجرت متعین نہیں کی جاتی اس لئےوکالت کی اُجرت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں۔ اس معاملے کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بیچنے والے کے لیے اُجرت کی رقم متعین کردی جائے۔مثلاً:ہزار،دو ہزار وغیرہ۔ پھرموبائل جتنے میں بھی بِک جائے تو وہ ساری رقم موبائل کے مالک کی ہوگی۔جب کہ بیچنے والا اپنی متعینہ اجرت کا مستحق ہوگا۔

 

إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعا، إذ الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل إقامتها فيجوز أخذ الأجرة فيها. (فتح القدير، كتاب الوكالة، ج:8، ص:3)

لو أعطى أحد ماله للدلال وقال بعه بكذا دراهم فإن باعه الدلال بأزيد من ذلك فالفاضل أيضا لصاحب المال وليس للدلال سوى الأجرة. (مجلة الأحكام العدلية، الباب السادس في بيان أنواع المأجور وأحكامه، الفصل الرابع: في إجارة الآدمي، ج:1، ص:107، المادة:578)

وإنما يجب للوكيل أجر على عمله إن شرطه له ذلك صريحا أو بدلالة العرف والعادة بأن كان الوكيل ممن جرت عادتة أن يعمل بأجرة۔(شرح المجلة لخالد الأتاسي، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة، المادة:1467، ج:4، ص:445)


فتویٰ نمبر : 4027/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں