بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
راستے میں ملنے والی رقم کو مدرسہ میں خرچ کرنا
سوال
میں نے راستے سے گزرتے ہوئے ایک ہزار کا نوٹ پایا ہے، کیا میں اس نوٹ کومدرسہ میں خرچ کرسکتا ہوں یا نہیں؟
جواب
لقطہ کو اٹھانے والے پرلازم ہے کہ وہ اس کی تشہیر کرے، اس وقت تک کہ غالب گمان آجائے کہ اس کا مالک اب اسے تلاش نہیں کررہا۔ اگر تشہیر کے بعد بھی اصل مالک معلوم نہ ہوجائے تو پھر فقراء پر صدقہ کر سکتا ہے، اوراگر لقطہ اٹھانے والا شخص خود فقیر ہو تو وہ خود بھی استعمال کر سکتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر ایک ہزار کا نوٹ اٹھانے والے شخص کو تشہیر کے بعد اصل مالک معلوم نہ ہوجائےتو اس صورت میں اس نوٹ کو مدرسہ میں خرچ کرسکتا ہے۔
يجوزللملتقط أن ينتفع باللقطة إذا كان فقيرا وإن لم يكن فقيرا لم يجزويتصدق بها على الفقيرأجنبيا كان أوقريبا له أو زوجة له لأنه مال الغير فلا يجوز الانتفاع به بدون رضاہ لإطلاق النصوص كقوله تعالى{ولا تأكلوا أموالكم بينكم} الآية و قوله { ولا تعتدوا}وأمثال ذلك إلا أنه أبيح الانتفاع به للفقيربطريق التصدق لقوله عليه الصلاة والسلام{فليتصدق به}أو للإجماع فبقي غيره محرم التناول على الأصل فإذا كان المبيح هو الفقرفلا يختلف بين أن يكون الفقيرالواجد لها أوغيره من أقاربه أو الأجانب لحصول المقصود بالكل وهو التصدق على محتاج۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،كتاب اللقطة،ج:4 ،ص:221)
( وعرف )أي نادى عليهاحيث وجدها وفي المجامع( إلى أن علم أن صاحبها لايطلبها أوأنها تفسد إن بقيت كالأطعمة ) والثمار ۔۔۔ قوله: (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها): لم يجعل للتعريف مدة اتباعا للسرخسي ،فإنه بنى الحكم على غالب الرأي، فيعرف القليل والكثير إلى أن يغلب على رأيه أن صاحبه لا يطلبه، وصححه في الهداية وفي المضمرات والجوهرة وعليه الفتوى۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب اللقطة،ج:4،ص:278)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں