بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم سے قبرستان کی زمین خریدنا


سوال

کیا زکوۃ کے پیسے سے قبرستان کی زمین خرید سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ (مثلاً: نذر، کفارہ، فدیہ اور صدقہ فطر) کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے کسی مستحقِ زکوۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے بصورت دیگر زکوۃ ادا نہ ہو گی۔

لہذا صورت مسئولہ میں زکوۃ کی رقم  سےقبرستان کے لیے زمین خریدنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی  جب کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک کا پایا جانا ضروری ہے۔

 

ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه،ولايجوزأن يكفن بها ميت،ولايقضى بهادين الميت كذافي التبيين.(الفتاوى الهندية،کتاب الزکاۃ،الباب السابع في المصارف، ج: 1، ص: 188 )


فتویٰ نمبر : 10872/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں