بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سردیوں کے موسم میں گاؤں میں آبادی کم ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نماز


سوال

ہمارے گاؤں کی مسجد میں باقاعدگی سے نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی ہے، مگر سردیوں کے موسم میں اس علاقے کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ عام دنوں میں باجماعت نماز کے لیے کبھی کبھار صرف تین چار افراد ہی موجود ہوتے ہیں، جبکہ جمعہ کے دن عموماً پندرہ سے بیس افراد شریک ہو جاتے ہیں۔ایسی صورتِ حال میں شرعی رہنمائی درکار ہے کہ آیا آبادی کی اس کیفیت کے پیشِ نظر نمازِ جمعہ ادا کی جائے یا نمازِ ظہر؟علمائے کرام اور مفتی حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس مسئلے پر قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہےکہ جس علاقے میں صحت جمعہ کےدوسری شرائط پائی جاتی ہوں یعنی وہ مصر یا بڑا گاؤں ہو جس میں بنیادی ضروریات پائی جاتی ہوں، اور اس کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہوتو وہاں جمعہ پڑھنا جائز ہوگا، لیکن جس علاقے میں صحت جمعہ کی شرائط موجود نہ ہوں یعنی چھوٹا گاؤں ہو یا اس میں آبادی کم ہو تو اس میں نمازجمعہ کی ادائیگی صحیح نہ ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں اگر گرمی کے موسم میں یہ علاقہ بڑا گاؤں بن جاتا ہو تو جب تک بڑےگاؤں کی شرط موجود ہوگی، جمعہ درست رہے گا، لیکن سردیوں کے موسم میں اگر آبادی کم ہوجانےسے بڑے گاؤں کی حیثیت متاثر ہوجائے تو جمعہ کا حکم بھی متاثر رہے گا۔اسی علت کی بنا پر منیٰ کے مقام پر صرف ایام حج میں جمعہ درست ہے، باقی ایام میں شرائط جمعہ کے فقدان کی وجہ سے جمعہ درست نہیں۔

 

(وجازت) الجمعة (بمنى في الموسم) فقط،...(قوله في الموسم) أي موسم الحاج وهو سوقهم ومجتمعهم،... (قوله فقط) أي فلا تصح في منى في غير أيام اجتماع الحاج فيها لفقد بعض الشروط. ( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:144 )

‌تقع ‌فرضا ‌في ‌القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق. ( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب باب الجمعة، ج:2، ص:138 )

لا ‌تصح ‌الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع". ( الهداية، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:82 )


فتویٰ نمبر : 10871/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں