بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
مطلق عقد مضاربت میں مضارب کا کسی کو وکیل بنانا
سوال
ایک شخص نے دوسرے شخص کو بطورِ مضاربت مال دیا، مگرعقد کے وقت کسی مخصوص کام کی صراحت نہ کی، تو کیا مضارب کو یہ حق حاصل ہے کہ دوسروں کو وکیل بنائے، یا اس کے لیے مالکِ مال کی صریح اجازت شرط ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مطلق عقدِ مضاربت کے تحت مضارب کو وہ تمام تصرفات کرنے کا اختیار حاصل ہے جو عرفاً تجارت اوراس کے لوازم میں داخل ہوں، کیونکہ مضارب درحقیقت صاحبِ مال کا نائب ہوتا ہے اوراس کو مال دینے کا مقصود نفع کا حصول ہوتا ہے، جوعموماً انہی تجارتی تصرفات کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا مضارب کو وکیل مقرر کرناجائز ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر رب المال نے عقد مضاربت کی وقت کسی کام کی صراحت نہ کی ہو تو مضارب تو یہ حق حاصل ہے کہ کسی کواپنا وکیل بنائے۔
الأصل أن ما يفعله المضارب ثلاثة أنواع:نوع يملكه بمطلق المضاربة وهو ما يكون من باب المضاربة وتوابعها وهو ما ذكرنا، و من جملته التوكيل بالبيع والشراء للحاجة إليه والرهن والارتهان لأنه إيفاء واستيفاء والإجارة والاستئجار والإيداع والإبضاع والمسافرة۔ (الهداية، كتاب المضاربة، باب المضارب يضارب، ج:3، ص:270)
وإذا دفع إلى رجل مالا مضاربة ولم يقل اعمل فيه برأيك فله أن يشتري به ما بدا له من أصناف التجارة ويبيع؛ لأنه نائب عن صاحب المال في التجارة " فإن قصده بالدفع إليه تحصيل الربح وذلك بطريق التجارة فكذلك ما هو من صنع التجار يملكه المضارب بمطلق العقد ويبيع بالنقد والنسيئة عندنا۔۔۔ وله أن يستأجر معه الأجراء يشترون ويبيعون ويستأجر البيوت والدواب لأمتعته التي يشتريها؛ لأن ذلك من صنع التجار. فالمضارب لا يستغني عن ذلك في تحصيل الربح، وللمنافع حكم المال عند العقد، والإجارة والاستئجار تجارة من حيث إنه مبادلة مال بمال۔ (المبسوط للسرخسي، كتاب المضاربة،باب ما يجوز للمضاربة في المضاربة، ج:22،ص:38)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں