بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں نور پورمیں جمعہ کا قیام


سوال

بندے کا تعلق پاکستان، صوبہ پنجاب، ضلع اٹک، تحصیل حضرو کے گاؤں، نور پور سے ہے۔ گاؤں کی آبادی پانچ ہزارافراد مرد و زن پر مشتمل ہے۔ گاؤں کے اندر آٹھ مسجدیں موجود ہیں۔ دو بنات کے مدرسے موجود ہیں۔ تین عدد عصری علوم کے لیے سکول موجود ہیں۔ گاؤں کے اندر سات کریانہ سٹور موجود ہیں (کریانہ سٹور کی تفصیل: بنیادی طور پر کھانے پینے کی اشیاء جیسے آٹا، چاول، دالیں، چینی، نمک، تیل اور مصالحے۔ ساتھ ہی دودھ، دہی، انڈے جیسی ڈیری مصنوعات، بسکٹ، کیک، چپس، جام، مشروبات، صفائی اور گھریلو استعمال کی اشیاء، چھوٹے بچوں کے ناشتے، ٹافیاں، ماچس اور دیگر ضروری اشیاء دستیاب ہیں)۔ ایک عدد آٹا چکی موجود ہے دوعدد حجام کی دکانیں موجود ہیں۔ ایک ڈسپنسری موجود ہے، جو کہ دکان نما ہے اوردن کے اوقات میں ایک ڈاکٹر صاحب موجود رہتے ہیں۔ (یہاں عمومی امراض کے لیے چھوٹی اور وقتی علاج کی کچھ دوائیاں دستیاب ہیں۔ اگر کسی کو مستقل علاج یا بڑی بیماری ہے تو شہرجانا پڑتا ہے)۔ ایک جوتے کی دکان موجود ہے۔ گوشت کی باقاعدہ دکان نہیں، مگر کریانہ سٹور والے ذبح شدہ مرغی، بڑا گوشت اور قیمہ فریزر میں رکھتے ہیں۔ ایک سبزی کی دکان موجود ہے۔ گاؤں میں بجلی اور گیس دستیاب ہیں۔ تمام روڈ اور گلیاں پختہ ہیں۔ گاؤں کا اپنا قبرستان اور جنازگاہ موجود ہے۔ گاؤں کی آبادی جنوب اور شمال سے دوسرے گاوں کی آبادی کے ساتھ مل چکی ہے۔ قریبی شہروں کا فاصلہ: جنوب میں گوندل شہر 3.2 کلومیٹر شمال میں ملاح شہر 2.3 کلومیٹر ان شہروں میں تمام سہولیات، ڈاکخانہ اور پولیس چوکی موجود ہیں۔ گاؤں جس پولیس چوکی سے منسلک ہے وہ 4.3 کلومیٹر دور، گاوں رنگو تاجک میں موجود ہے۔ گاؤں میں مستقل کوئی ہسپتال موجود نہیں ہے۔ تھانہ، کچہری یا بازار موجود نہیں (قریبی شہر ہونے کی وجہ سے)۔ مذکورہ تفصیلات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، مسلک احناف کے مطابق، ہمارے گاؤں نور پور میں جمعہ کی نماز ہوگی یا نہیں، برائے کرم مفصل و مدلل جواب ارسال فرمائیں۔

جواب

فقہائے احناف کے ہاں نمازِ جمعہ کی صحتِ ادا کے لیے من جملہ دیگر شرائط کے ایک شرط یہ ہے کہ وہ جگہ مصرہو یا وہ بڑا گاؤں ہو جس میں ضروریات زندگی میسر ہوں۔ ہرزمانے کے فقہاء نے اپنے زمانے کے حالات اورعرف کو مدنظر رکھتے ہوئے مصر یا بڑےگاؤں کی تعریف کی ہے۔ موجودہ زمانے میں جس علاقے کی مستقل آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواور ضروریاتِ زندگی دستیاب ہوں تو وہ بڑا گاؤں کہلائے گا، چنانچہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز ہوگااور وہ علاقے جو اس کے توابع میں داخل ہوں، وہاں بھی جمعہ جائز ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ گاؤں جس کی آبادی  پانچ ہزار(5000)  پر مشتمل ہے اورذکر کردہ تفصیل کے مطابق اس میں ضروریاتِ زندگی بھی میسر ہیں ،تو اس میں نمازِ جمعہ پڑھنا جائز ہے ۔

 

لا تصح الجمعة إلا في ‌مصر ‌جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى.(الهداية، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج:1، ص:82)

أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها.(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259)


فتویٰ نمبر : 10872/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں