بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کفارہ قتل ِ خطامیں تداخل


سوال

قتل خطا کی صورت میں متعدد افراد کے قتل کے کفارے میں تداخل ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کفارہ جنایت کی وجہ سے لازم ہوتا ہے،لہٰذا جتنی جنایات زیادہ ہوں گے اس قدر کفارے لازم  ہوں گی۔ چنانچہ قتل خطا کی صورت میں  جتنی جنایات زیادہ ہوں گی اس قدر کفارے لازم ہوں گے،لہذا ہر قتل کے بدلے الگ کفارہ دینا لازم ہوگا۔

 

في المنتقی: رجل ضرب بطن امرأته فألقت جنیناً حیًّا ثم مات، ثم ألقت جنیناً میِّتاً ثم ماتت الأم بعد ذلک، وللرجل الضارب بنون من غیر ہذہ المرأة، ولیس له ولد من ہذہ المرأة غیرہذا الذي ولدت عند الضربة، ولہا إخوة من أبیہا وأمہا، فعلی عاقلة الأب دیة الولد الذي وقع حیًّا ثم مات، ترث من ذلک أمه السدس، ومابقي فلإخوة ہذا الولد من أبیه، وعلی الأب کفارتان: کفارة فی الولد الواقع حیًّا، وکفارة في أمه. (الفتاوى الهندية، كتاب الجنايات، الباب العاشر في الجنين، ج:6، ص:43)

وأما صفتہا (صفة کفارة الظہار) فہي عقوبةٌ وجوباً، لکونہا شرعت أجزیة لأفعال فیہا معنی الحظر، عبادةٌ أداءً، لکونہا تتأدی بالصوم والإعتاق والصدقة، وہي قرب، والغالب فیہا معنی العبادة إلا کفارة الفطر في رمضان، فإن جہة العقوبة فیہا غالبة، بدلیل أنہا تسقط بالشبہات کالحدود، ولا تجب مع الخطإ، بخلاف کفارة الیمین، لوجوبہا مع الخطإ، وکذا کفارة القتل الخطإ، وأما کفارة الظہار فقالوا: إن معنی العبادة فیہا غالب، وخالفہم صدر الشریعة في الأصول فجعلہا ککفارة الفطر: معنی العقوبة فیہا غالب لکونه منکراً من القول وزوراً، وردہ في التلویح، بأنه فاسد نقلا وحکماً واستدلالاً، أما الأول فلتصریحہم بخلافه، وأما الثاني فلأن من حکم ما تکون العقوبة فیه غالبة أن تسقط بالشبہة وتتداخل، ککفارة الصوم، حتی لو أفطر مراراً لم تلزمه إلا کفارة واحدة، ولا تداخل في کفارة الظہار، حتی لو ظاہر من امرأته مراراً لزمه بکل ظہار کفارة. (البحرالرائق، باب الظہار، فصل في الكفارة، ج:4، ص:169)


فتویٰ نمبر : 6600/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں