بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں کھانا پکانا


سوال

ہمبستری کی بعد اگر کوئی عورت صبح کو اٹھ کر غسل کرنے سے پہلے ناشتہ پکائے اور پھر غسل کرے تو کیا یہ درست ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کھانا پکانے کے لیے عورت کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے، حالتِ جنابت میں بھی  عورت کھانا پکاسکتی ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کرکے پاکی کی حالت میں کھانا پکایا جائے۔ورنہ کم ازکم کھانا پکانے سے پہلے وضو کرلے یا ہاتھ دھوئےاور کلی کرے ۔

 

عن أبي هريرة قال:لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا جنب، فأخذ بيدي، فمشيت معه حتى قعد، فانسللت، فأتيت الرحل، فاغتسلت ثم جئت وهو قاعد، فقال: (أين كنت يا أبا هر). فقلت له، فقال: (سبحان الله يا أبا هر، إن المؤمن لا ينجس). (صحيح البخاري،كتاب الغسل، باب: الجنب يخرج ويمشي في السوق وغيره، ج:1، ص:109، رقم الحديث:281)

قال ابن بطال فيه أنه يجوز للجنب التصرف في أموره كلها قبل الغسل .(الكوكب الداري شرح الصحيح البخاري، باب الجنب يخرج ويمشى فى السوق وغيره، ج:3، ص:139)

وفيه دليل على جواز تأخير الاغتسال للجنب، وأن يسعى في حوائجه .(مرقاۃ المفاتيح،باب مخالطة الجنب وما يباح له، ج:3، ص:434)

 ولا بأس للجنب أن ينام ويعاود أهله قبل أن يتوضأ وإن توضأ فحسن وإن أراد أن يأكل أو يشرب فينبغي أن يتمضمض ويغسل يديه. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، ج:1، ص:39)


فتویٰ نمبر : 10869/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں