بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کااحرام کی حالت میں چہرہ نہ چھپانا


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے عورت کو پردہ کرنا ہے اور احرام کی حالت میں چہرہ نہیں چھپانا ہے یہ بات مجھے سمجھ نہیں آرہی اس کو پلیز ذرا وضاحت سے فرما دیں۔

جواب

احرام کی حالت میں عورت کو چہرے پر کپڑا نہیں لگانا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ  احرام کی حالت میں  عورت کے چہرہ  نہ چھپائے، بلکہ عورت کے لیے جہاں تک ممکن ہو پردہ کرنا  ضروری  ہے،  اس کے لیے  آج کل  بازار میں ایسےکیپ  ملتے  ہیں، جن  کے آگے نقاب لگا  ہوتا ہے جس سےکپڑا چہرے سے نہیں لگتا ہوں تو پردہ کے اہتمام کے ساتھ احرام کی پابندی بھی پوری ہوجاتی ہےلہذا اسے استعمال کرنا چاہیے۔

 

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان الركبان يمرون بنا، ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن محرمات، ‌فإذا ‌جازوا ‌بنا ‌سدلت إحدانا جلبابها من رأسها على وجهها، فإذا جاوزونا كشفناه. (السنن الكبرى للبيهقي،كتاب الحج، باب المحرمة تلبس الثوب من علو فيستر وجهها وتجافي عنه،ج:5،ص:75،رقم الحديث:9051)

والمرأة ‌في ‌جميع ‌ذلك ‌كالرجل ‌غير ‌أنها ‌لا ‌تكشف ‌رأسها ‌وتكشف ‌وجهها ‌ولو ‌سدلت ‌على ‌وجهها ‌شيئا‌ وجافته ‌عنه ‌جاز. (الفتاوى الهندية، كتاب المناسك وفيه سبعة عشر بابا، الباب الخامس في كيفية أداء الحج،مواضع رمي الجمار، ج:1،ص:235)


فتویٰ نمبر : 10869/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں