بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خودکشی کی کوشش کرنا


سوال

ایک عورت نے اپنی ساس کے ساتھ جھگڑاکیا،اور اس کی وجہ سے اس نے زہر کھا لیا اور کہا کہ" میرا خون  میری ساس کے ذمے ہوگا اگر میں مرگئی"لیکن وہ عورت ٹھیک ہو گئی،اب پوچھنا یہ ہے کہ اس عمل کرنے کی وجہ سے اس عورت پر کوئی کفارہ وغیرہ آئےگا یا نہیں؟ اور اس کی نماز ،روزہ وغیرہ عبادت قبول ہوں گی یا نہیں اور توبہ کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

جاننا چاہیے کہ ہر انسان کاجسم اوراس کی روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس امانت ہوتی ہےجس میں خیانت کرنے کی اجازت نہیں ،اس وجہ سے خودکشی کرنا (یعنی اپنے آپ کو خود ہی مارنا)اسلام میں حرام ہے اوربڑا گناہ ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جس عورت نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے ،لیکن کوشش کے باوجود وہ بچ گئی،تو وہ  اس عمل کی وجہ سےبڑے گناہ اور حرام  کی مرتکب ہوئی،البتہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا، اور نہ عبادات کی قبولیت میں رکاوٹ ہےالبتہ ایسی حرکت کرنے کی وجہ سے اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار  کرنے کی ضرورت ہے۔

 

وقال:﴿‌ولا ‌تقتلوا ‌أنفسكم إن الله كان بكم رحيما﴾ [النساء: 29]

ولا تقتلوا أنفسكم ‌يدل ‌على ‌النهي ‌عن ‌قتل ‌غيره وعن قتل نفسه بالباطل.( التفسير الكبير، تتمة سورة النساء، ج:10، ص:57 )

عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"‌من ‌تردى ‌من ‌جبل ‌فقتل نفسه، فهو في نار جهنم يتردى فيه خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه، فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا".( صحيح البخاري، كتاب الطب، باب شرب السم والدواء به وبما يخاف منه والخبيث، ج:5، ص:2179 )

(‌من ‌قتل ‌نفسه) ولو (عمدا يغسل ويصلى عليه) به يفتى، وإن كان أعظم وزرا من قاتل غيره. ( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ص:119 )


فتویٰ نمبر : 6597/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں