بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

منگنی میں دیئے گئے تحائف واپس لینا


سوال

میری بیٹی کی منگنی ہوئی ، اس کے بعد انہوں نے میری بیٹی کی دعوت کی ،تو اس موقع پر میری بیٹی کو کچھ تحائف دیے،ان میں سے ہم نے اکثر استعمال کرلیے ،اس کے بعد انہوں میری بیٹی کو کسی کام کے لیے بلایا تو ہم  نے انکار کیا ،تو اس کے بعد انہوں کہا کہ ہم رشتہ نہیں کرتے ہیں ،اور ہم نے  جو تحائف آپ لوگوں کودیے وہ واپس کردو۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ ہم سے ان تحائف کا مطالبہ کرسکتے ہیں ؟میں ان کو وہ تحائف واپس کر دوں ؟یہ رشتہ انہوں نے خود توڑا ہے تووہ  گناہ گار  ہوں گے یا ہم؟

جواب

واضح رہے کہ موہوبہ چیز استعمال ہونے سے ختم ہوجائے یا اس میں تبدیل ہوجائے، یا اس چیز میں ایسی زیادتی ہوجائے جو اس کے ساتھ متصل ہو،یاموہوب لہ (جسے ہبہ کیا گیا ہے) اس کی ملکیت سے موہوبہ چیز نکل جائے توہبہ سے رجوع نہیں ہوسکتا۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق اگرلڑکے والوں نےمنگنی کے موقع پر یا بعد میں کسی وقت کوئی چیزلڑکی کو بطور ہبہ دی ہو تو ان تحائف میں سے جو استعمال سے ختم ہوگئے ہیں ان کی واپسی تو ممکن نہیں،البتہ جو چیزیں باقی ہیں اگر منگنی ختم ہونے کے بعد وہ تحفہ دینے والا اس کی واپسی کا مطالبہ کرے تو جس کو تحفہ دیا گیا ہے اس کی رضا مندی سے وہ واپس لے سکتا ہے۔اور اگر اس کی رضا مندی نہ ہو تو پھر عدالت کے ذریعے وصول کر سکتا ہے،نیز انہوں نے جو منگنی کے بعد رشتہ توڑا ہے تو اگر بغیر کسی معقول عذر کے توڑاہے، تو اس صورت میں وہ گناہ گار ہوں گے ؛کیونکہ منگنی ایک وعدہ ہے اور اس کو بلاکسی وجہ کے توڑنے سے آدمی گناہ گار ہوگا ۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا﴾ [سورة الإسراء: 34]

(‌خطب ‌بنت ‌رجل ‌وبعث ‌إليها ‌أشياء ولم يزوجها أبوها، فما بعث للمهر يسترد عينه قائما) فقط وإن تغير بالاستعمال

(أو قيمته هالكا) لانه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد (وكذا) يسترد (ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك) لانه في معنى الهبة.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، کتاب النکاح، باب المهر، ص:194 )

(‌قوله ‌لأنه ‌في ‌معنى ‌الهبة) أي والهلاك والاستهلاك مانع من الرجوع بها، وعبارة البزازية لأنه هبة اهـ ومقتضاه أنه يشترط في استرداد القائم القضاء أو الرضا، وكذا يشترط عدم ما يمنع من الرجوع، كما لو كان ثوبا فصبغته أو خالطته. ( رد المحتار، باب المهر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج:3، ص: 153 )

أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع (منها) هلاك الموهوب... (ومنها) خروج الموهوب عن ملك الموهوب له ... (ومنها) موت الواهب،(ومنها) الزيادة في الموهوب زيادة متصلة . . . (ومنها) أن يتغير الموهوب .. (ومنها الزوجية) (ومنها القرابة المحرمية). (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الخامس في الرجوع في الهبة، ج:4، ص:386 )


فتویٰ نمبر : 6596/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں