بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ادهارپر خریدے ہوئے مال تجارت میں زکوۃ


سوال

ایک شخص پینٹ(رنگ) کا کاروبار کرتا ہے اور  کمپنی سے مال تجارت یعنی پینٹ خریدتا ہے جس کے پیسے کچھ نقد دیتا ہے اور کچھ ادھار ہوتے ہیں ،تو اس صورت میں جب سال پورا ہو جائے تو جس مال کے پیسے ادا کیے ہے صرف اس  کی  زکوۃ ادا کرےگایا اس مال کی بھی زکوۃادا کرے گا جس کے پیسےابھی تک ادا نہ کیے ہو ؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص کسی مال تجارت  کا مالک ہواوروہ  مقدار نصاب کو پہنچے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوتی  ہےنیز کسی چیز کے خریدنے سے خریدار  اس چیز کا مالک بنتا ہے ،چاہے اس  کو نقد خریدا ہو یا ادھار خریدا ہو،البتہ مال تجارت کے حساب لگاتے وقت جتنے دیون زکوۃ ادا کرنے والے کے ذمہ ہوں ان کو منہا کیا جائے گا،اور باقی مال اگر بقدر نصاب رہتا ہو تو اس کی  زکوۃ ادا کرے گا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ آدمی پورے مال تجارت کی  زکوۃ ادا کرے گا جس کاثمن ادا کیا ہےاس کی بھی  اور جس کا ثمن ابھی تک ادھار ہے  اس کی بھی، البتہ دیگر دیون کی طرح جو ثمن اس کے ذمہ قرض ہے اس کو بھی پورے مال تجارت سےمنفی کیا جائے گا ۔

 

وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور. (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، ج:2، ص:389)

  (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة. ( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:234)


فتویٰ نمبر : 10862/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں