بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سرکاری ملازم کا نوکری میں ترقی کے لئے رشوت دینا


سوال

میں ملازم ہوں، ہمارے شعبہ میں پروموشن(ترقی) ہورہا ہے، میں نے پوری کوشش کی، لیکن افسران بالا بغیر رشوت کے مجھے پروموشن نہیں دے رہےہیں، حالانکہ قانونی طور پراُس عہدہ کےلیے میں اہل ہوں اور میرا حق بنتا ہے۔ کیا میں اس پروموشن کے لیے رشوت دے سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ رشوت دےکرنا جائزطریقےسےاپنے مقصد کو حاصل کرنا یا کسی حق دارکا حق چھیننا جائز نہیں ہے، لیکن اگرکوئی شخص کسی چیزکاحق دارہو، اوررشوت کےبغیراس کی وصولی ممکن نہ ہو، توفقہائے کرام کی ہاں ایسی حالت میں رشوت دےکراپناحق کووصول کرنےکی گنجائش ہے، البتہ رشوت لینےوالےکےلیےرشوت لیناہرصورت میں ناجائز اورحرام ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرسائل واقعی قانوناًاس پروموشن کا اہل اوردیگر ملازمین سے زیادہ مستحق ہو،اس کےباوجوداس کو افسرانِ بالاترقی نہیں دیتے، تواس صورت میں رشوت دینےکی گنجائش ہے،لیکن لینے والے کے لیےبہرحال حرام ہے، اور اگرقانوناًسائل کاحق نہ بنتاہویا کوئی دوسرا زیادہ حق دار ہو،توپھر رشوت دینا حرام ہے۔

 

لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام .كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه.قال ابن عابدین:دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظّلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له لیس برشوۃ.(ردّ المحتار علی الدّرالمختار،کتاب الحظروالإباحة، باب الاستبراءوغیرہ،ج:9،ص:607)


فتویٰ نمبر : 6592/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں