بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی چھت پر سولر لگانا


سوال

حکومت کی طرف سے  ہمارے لئے سولر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ہمارے گھر کے اوپر کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں سولر نصب کرسکے لیکن ہمارے قریب مسجد ہے جس کی چھت خالی ہے تو کیا ایسی صورت میں ہم  مسجد کے چھت کے اوپر اپنے لئے سولر نصب کرسکتے ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ایک مرتبہ جب مسجد کو وقف کر دیا جاتا ہے تو مسجد واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے اور تحت الثریٰ سے لے کر آسمانوں تک وہ مسجد ہی کے حکم میں ہوتی ہے،  اس میں نماز، عبادت، قرآن مجید کی تلاوت اور اعتکاف وغیرہ ہو سکتا ہے، لیکن مسجد کے کسی بھی حصہ کو ذاتی نفع کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لئے مسجد کے چھت کے اوپر سولر نصب کرنا جائز نہیں۔

 

إذا أراد إنسان أن يتخذ تحت المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له ذلك۔(المحیط البرھاني،كتاب الوقف ، الفصل الحادي والعشرون : في المساجد وهو أنواع ،ج: 6،ص: 207 )


فتویٰ نمبر : 6593/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں