بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کی بھانجی سے نکاح کرنا


سوال

ایک شخص اپنی بیوی کی بہن(سالی ) کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے ، کیا اس کو یہ نکاح کرنے کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دینی ہو گی،یا یہ نکاح بیوی کی رضامندی سے ہو جائے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ ایک ہی وقت میں بیوی اور اس کی بھانجی کو نکاح میں جمع کرنا جائزنہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جب  تک  اس   کی  بیوی اس  کے  نکاح  میں  ہے اس وقت تک اس کی بھانجی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہےچاہے بیوی اس پر راضی ہو یا ناراض ،اس سے حکم پر فرق نہین پڑتا۔

 

(وأما ‌الجمع ‌بين ‌ذوات ‌الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط. فلا يجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسبا أو رضاعا، وخالتها كذلك ونحوها.( الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، باب في المحرمات، ج:1، ص:277 )

(و) ‌حرم (‌الجمع) ‌بين ‌المحارم (‌نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطأ بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للاخرى) أبدا لحديث مسلم: لا تنكح المرأة على عمتها وهو مشهور.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب النكاح، فصل فی المحرمات، ص:180 )


فتویٰ نمبر : 7356/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں