بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی ضرورت کےلیے رکھی گئی رقم پر زکوۃ


سوال

ایک شخص  نے اپنی گاڑی بیچی ہے (کچھ وجوہات کی بنا پر ایک سال کے لیے ان کو گاڑی کی ضرورت نہیں ہے لیکن ایک سال بعد ان کو گاڑی دوبارہ خریدنی پڑے گی)،گاڑی بیچنے کے بعد ان کے پاس جو گاڑی کی رقم موجود ہے کیا اس پر ان کو زکاۃ دینی پڑے گی؟ واضح رہے کہ ان صاحب کے پاس اپنا ذاتی گھر نہیں ہے لیکن وہ صاحب نصاب ہے، اور یہی رقم گاڑی کے لیے دوبارہ چاہیے ہوگی۔

جواب

شرعی نقطۂ نظر سے  زکوۃ  ہر  اس شخص پر واجب ہوتی ہے  جس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا ،یا ساڑھے باون تولےچاندی موجود ہو،اور یا  نقدی اور سامان ِ تجارت اتنی مقدار میں  ہو جس کی قیمت  ساڑھے باون تولے  چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہو۔نیز سونا چاندی یا نقد رقم جس مقصد کے لیے بھی  رکھی گئی ہو، تو اس میں سے زکوۃ دینا ضروری ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص  صاحب نصاب ہو، تو اس پر اس رقم میں زکوۃ دینا لازم ہے،اگر چہ یہ رقم گاڑی وغیرہ کسی ضرورت کے لیے رکھی گئی ہو۔

 

(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب الزكاة،ج:2،ص:267)  

وأما صفة هذا النصاب فنقول: لا يعتبر في هذا النصاب صفة زائدة على كونه فضة فتجب الزكاة فيها سواء كانت دراهم مضروبة، أو نقرة، أو تبرا، أو حليا مصوغا، أو حلية سيف، أو منطقة أو لجام أو سرج أو الكواكب في المصاحف والأواني، وغيرها إذا كانت تخلص عند الإذابة إذا بلغت مائتي درهم، وسواء كان يمسكها للتجارة، أو للنفقة، أو للتجمل، أو لم ينو شيئا.(بدائع الصنائع،فصل صفة نصاب الزكاة في الفضة،ج:2،ص:16)


فتویٰ نمبر : 10861/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں