بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 16/08/2026 |
دارالافتاء
ایک کرنسی قرض میں لے کر دوسری کرنسی میں ادائیگی کرنا
سوال
پانچ سال قبل میں نے اپنے ایک دوست سے ایک لاکھ پاکستانی روپے قرض لیے تھے، اُس وقت ایک لاکھ روپے سے تقریباً 2300 سعودی ریال بنتے تھے۔ اب ہم دونوں سعودی عرب میں مقیم ہیں اور میں وہ قرض واپس کرنا چاہتا ہوں۔ موجودہ وقت میں ایک لاکھ روپے سے تقریباً 1340 ریال بنتے ہیں، جبکہ میرا دوست کہتا ہے کہ چونکہ اب اسے ریال کی ضرورت ہے، اس لیے میں اُسے اتنے ہی ریال (2300) ادا کروں جو اُس وقت بنتے تھے جب میں نے قرض لیا تھا۔ تو شرعی طور پر میں اُسے ایک لاکھ پاکستانی روپے دوں یا موجودہ ریٹ کے مطابق ریال، یا اُس وقت کے حساب سے 2300 ریال دینا لازم ہوگا؟
جواب
شریعت مطہرہ میں قرض دینا احسان کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کا مشروط اضافہ یا منافع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں، قرض کی واپسی اس کے مثل سے کی جائی گی لہٰذا جو کرنسی قرض لی گئی ہو وہی کرنسی اسی مقدار میں واپس کرنا ضروری ہوگا۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل نے کسی سے ایک لاکھ پاکستانی روپے قرض لیے تھے تو اگر چہ ریال کی قیمت بڑھ چکی ہو پھر بھی شرعاً سائل پر ایک لاکھ پاکستانی روپے ہی واپس کرنا لازم ہے۔ البتہ اگر ریال دینا ہو تو موجودہ ریٹ کے مطابق ریال دینا ہوگا۔
هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لآخر ليرد مثله (تنویر الأبصار، كتاب البيوع، فصل في القرض، ج:5، ص:161)
الديون تقضى بأمثالها. (الهداية في شرح بداية المبتدي،باب الوكالة بالخصومة والقبض، ج:3، ص:149)
في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟ نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها (تنقيح الحامدية، باب القرض، ج:1، ص:279)
وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه. (رد المحتار، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:5، ص:162)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں