بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کا رکوع اور سجدے میں تین بار سے زائد تسبیحات پڑھنا


سوال

اگر کوئی امام رکوع اور سجدے میں تین بار سے زیادہ تسبیحات پڑھتا ہو جس کی وجہ سے بعض مقدیوں کو نا گواری ہو، تو امام صاحب کے لیے تسبیحات کا رکوع اور سجدے میں تین سے زیادہ مرتبہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ امام اور منفرد دونوں کے لیے رکوع اور سجدے میں تسبیحات کا تین بار سے کم پڑھنا مکروہ ہے۔ اسی طرح امام کے لیے تین بار سےزائد تسبیحات پڑھنا بھی اس وقت مستحب نہیں جب نماز میں اس وجہ سے طوالت آتی ہو اور اگر طوالت نہ آتی ہو تو پانچ مرتبہ تک پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

 

‌وصرحوا ‌بأنه ‌يكره ‌أن ‌ينقص ‌عن ‌الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماما فلا يطول. (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج:1، ص:494)


فتویٰ نمبر : 10855/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں