بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

منہ ڈھانپ کر نماز پڑھنا


سوال

آج کل سردی کا موسم ہے، نماز کے دوران چادر یا مفلر اور ماسک سے منہ چھپانے سے نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عام حالات میں بلا عذر ناک اور منہ کو کسی کپڑے وغیرہ سے چھپا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے نماز میں منہ یا چہرے کو ڈھانپا جائے یا ماسک پہنا جائے تو نماز بلاکراہت درست ہو گی، البتہ صرف سردی کی وجہ سے چادر یا مفلر سے منہ ڈھانپ کر نماز ادا کرنا کراہت سے خالی نہیں تاہم اگر سردی اتنی زیادہ ہو کہ منہ ڈھانپے بغیر بیماری کا اندیشہ ہو تو پھر منہ ڈھانپنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

يكره اشتمال الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر. (قوله: والتلثم) وهو تغطية الأنف والفم في الصلاة لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النيران زيلعي. ونقل ط عن أبي السعود أنها تحريمية. (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:652)


فتویٰ نمبر : 10853/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں