بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خلع لینے کے بعد سابقہ شوہر سے نکاح کرنا


سوال

اگر کوئی عورت شوہر کی مار پٹائی کی وجہ سے عدالت سے خلع کی ڈگری لے لے، جس پر شوہر بھی راضی ہو۔ تو کیا ایسی عورت عدت گزارنے کے بعد پھر اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ خلع ملنے کی صورت میں عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے اس کے بعد وہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ  دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شوہر سے خلع لےلے تو اس کے بعد وہ دونوں باہم رضامندی سے دوبارہ ازسرنو نکاح کرسکتے ہیں۔

 

والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض. (المبسوط السرخسي، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173)

 إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، کتاب الطلاق، الباب الثامن فی الخلع، ج:1، ص:488)


فتویٰ نمبر : 7352/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں