بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

موبائل کمپنی سے ایڈوانس بیلنس حاصل کرنا


سوال

موبائل فون کمپنیوں نے صارفین کو یہ سہولت فراہم کی ہے کہ وہ بیلنس (Balance) ختم ہو جانے کے بعد صارف کو مطالبہ کرنے پر کچھ رقم (مثلاً: ۱۵ روپے کا بیلنس ایڈوانس لون (قرضہ) کے نام سے بھیج دیتی ہیں۔ اس کے استعمال کے بعد جب صارف اپنے موبائل میں کارڈ لوڈ کرتا ہے تو اس سے دیگر ٹیکسوں کے علاوہ ایڈوانس دی گئی رقم مع اضافی چار جز کے کاٹ دی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایڈوانس منگوائی گئی رقم پر صارف سے جو اضافی چارجز  وصول کیے جاتے ہیں اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟ کیا یہ سود کے زمرے میں تو داخل نہیں ؟

جواب

 ایڈوانس منگوائے گئے بیلنس کی وصولی پر جو اضافی چار جز وصول کیے جاتے ہیں یہ سود نہیں کیونکہ سودی معاملہ میں  بدلین  کا ہم جنس ہونا ضروری ہوتا ہے جب کہ صورت مسئولہ میں ایک جانب رقم اور دوسری جانب سروس (کال کرنے کی سہولت) ہے۔ لہٰذا دونوں کی جنس مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے تبادلہ میں کمی بیشی سود نہیں۔

 

فهي ‌عقد ‌على ‌المنافع ‌بعوض ... ثم الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتأجيل أو باستيفاء المعقود عليه.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثاني متى تجب الأجرة،ج:3،ص:412،409)

فإن لها نوعين: ‌نوع ‌يرد ‌على ‌منافع الأعيان كاستئجار الدور، والأراضي، والدواب، ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال.(فتح القدير، كتاب الإجارات،ج:9،ص:58)

فإن كون ‌الثمن ‌على ‌تقدير ‌النقد ألفا وعلى تقدير النسيئة ألفين ليس في معنى الربا.( فتح القدير، باب البيع الفاسد، ج:6،ص:447)


فتویٰ نمبر : 4013/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں