بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا خلع کے مطالبے کو حقوق واجبہ کی ادائیگی کے بعدقبول کرنے کا وعدہ کرنا


سوال

خلع نامہ میں عورت نے لکھا کہ:’’میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عرض کرتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ازدواجی زندگی مزید نبھانے سے قاصر ہوں۔ میرے دل میں اب وہ موافقت، محبت اور سکون باقی نہیں رہا جو ایک پائیدار نکاح کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ میری طرف سے کوئی الزام نہیں، مگر میرے لیے اس رشتے کو برقرار رکھنا اب دینی و ذہنی طور پر دشوار ہو گیا ہے۔ لہٰذا میں آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتی ہوں کہ آپ مجھے مہر اور تحفتاً دیے گئے زیورات کے مقابلے میں خلع دے کر عزت و احترام کے ساتھ جدا ہونے کا موقع دیں‘‘۔اس کے جواب میں شوہرنے لکھا کہ:’’میں فلاں، اپنی بیوی فلانہ کے مطالبے کے مطابق خلع بعوض ان تمام حقوقِ واجبہ کے جو نکاح کی وجہ سے مجھ  پر واجب ہوئے تھے، بخوشی بعد از ادا خلع پر راضی ہوں گا۔‘‘اس کے بعد عورت نے مہر واپس کیا ہے لیکن تحفتاً دیے گئے زیورات واپس نہیں کیے، تو کیا شوہرکے بیان کے مطابق خلع ہو چکا ہے یا ابھی بھی خلع دینا باقی ہے؟

جواب

عورت کی جانب سے مال کے عوض اگر خلع کا مطالبہ کیا جائے اور شوہر اس کو قبول کرے تو اس سے خلع تام ہو جائے گا، لیکن اگر شوہر مستقبل کے صیغے کے ساتھ جواب دے، مثلاً ’’میں راضی ہوں گا‘‘ یا ’’میں قبول کروں گا‘‘، تو یہ خلع قبول کرنے کا وعدہ کہلائے گا۔ نیز نکاح کی وجہ سے جو حقوق واجب ہوتے ہیں، ان میں تحفتاً زیورات  شامل نہیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق عورت نے شوہر سے مہر اور تحفتاً دیے گئے زیورات کے عوض خلع دینے کا مطالبہ کیا ہے، تو شوہر نے جواب میں لکھا کہ:’’میں فلاں، اپنی بیوی فلانہ کے مطالبے کے مطابق خلع بعوض ان تمام حقوقِ واجبہ کے جو نکاح کی وجہ سے مجھ  پر واجب ہوئے تھے، بخوشی بعد از ادا خلع پر راضی ہوں گا‘‘یہ الفاظ در حقیقت  حقوقِ واجبہ کی ادائیگی کے بعد خلع قبول کرنے کا وعدہ ہے۔لہذا محض عورت کی جانب سے مہر واپس کرنے سے خلع مکمل نہیں ہوا، بلکہ خلع مکمل ہونے کے لیے شوہر کی طرف سے باقاعدہ قبول کرنا ضروری ہے۔

 

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول... ثم الخلع ينعقد بلفظين يعبر بهما عن الماضي... وجه الثاني أن الخلع متى وقع على بدل - هو مال - يتعلق وقوع الطلاق بقبول يجب به المال.(بدائع الصنائع، كتاب الطلاق،ج:3،ص:145،147)

ثم إن الزوج اختص بأنواع من ‌حقوق ‌الزوجة، وهي التزام المهر والنفقة، والذب عنها، والقيام بمصالحها، ومنعها عن مواقع الآفات.(التفسير الكبير، سورة البقرة،ج:6،ص:433)


فتویٰ نمبر : 7353/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں