بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
وکیل کا مالِ زکوٰۃ کو اپنے اور رشتہ داروں کی اخراجات میں استعمال کرنا
سوال
ایک شخص مہتمم صاحب کو زکوٰۃ دیتےہوئے یہ اعتماد ظاہر کرتاہےکہ آپ اس رقم کو درست اورجائزمصرف میں استعمال کریں گےاور یہ مدرسے کی ضرورت پر خرچ ہوگی تو مہتمم اس مال کو اپنےاخراجات اور رشتہ داروں کی اخراجات میں استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے اگر کوئی کسی شخص کومعین افراد یا معین ادارے کو زکوٰۃ دینے کے لیے وکیل بنائے تو وکیل کے لیے اس کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں کہ اس کے بجائے کسی اور کو زکوٰۃ دے یا خود استعما ل کرے اگرچہ خود مستحق ہو ،کیونکہ وکیل کے پاس مؤکل کی دی ہوئی زکوٰۃامانت ہوتی ہے اور امانت میں اس طرح کاتصرف کرنا جس سے خیانت کاشائبہ پیدا ہو،جائز نہیں لہٰذا وکیل کے لیے مؤکل کی اجازت کے بغیراس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر زکوٰۃ دہندہ نے مہتمم کو زکوٰۃ کی یہ رقم اس لیے دی ہوکہ وہ زکوٰۃ کی رقم مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کرے تو اس صورت میں اس کے لئے جائز نہیں کہ اسےخو د استعمال کرے یا مستحق رشتہ داروں کو دے، چونکہ زکوٰۃ کے مال میں تملیک ضروری ہےاسی وجہ سے مہتمم کے لیے ضروری ہے کہ مال زکوٰۃ کا طلباء سے تملیک کرائے، باقاعدہ تملیک کے بعد جب رقم مدرسہ کی ملکیت بن جاتی ہےتو یہ مدرسہ کی ہر ضرورت میں خرچ ہو سکتی ہے۔
سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخرمالا فقال له"ھٰذا زکاۃ مالي فادفعھا إلی فلان"فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟قال:نعم.(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الزكوة،الفصل:المسائل المتعلقة بمعطى،جلد:3،ص:228)
الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،جلد:3،ص:189)
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة.(الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب المصرف،ص:137)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں