بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مضارب کا اپنی ذاتی کمپنی سے خریداری کرنا


سوال

ایک شخص مضارب ہے تو کیا وہ مضاربت کے لیے اپنی ذاتی کمپنی سے خریداری کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مضارب رب المال کا وکیل ہوتا ہےاور وکیل اپنے آپ سے عقد نہیں کرسکتا ۔

صورت مسئولہ كے مطابق جوشخص مضارب ہو ، تواس کے لیے مال مضاربت سے اپنی ذاتی کمپنی میں  پہلے سے موجودمال رب المال کے لئے خرید کر اس کے لیے مختص کر کے آگے فروخت کرناجائز نہیں۔

 

ليس للوكيل بالشراء أن يشتري للموكل أربعة أنواع من الأموال :ليس للوكيل بالشراء أن يشتري ماله لموكله، يعني لو اشترى الوكيل بالشراء مال نفسه لموكله لا يصح شراؤه ولو قال له: اشتر مال نفسك لي؛ لأن الشخص الواحد ليس له أن يتولى طرفي العقد. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الحادي عشر الوكالة، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة وتشتمل على ستة فصول، الفصل الثاني في بيان الوكالة بالشراء، (المادة :1488) لو باع الوكيل بالشراء ماله لموكله، ج:3،ص:599)


فتویٰ نمبر : 4011/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں