بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بڑی اور چھوٹی مسجد کی تعریف


سوال

بڑی اور چھوٹی مسجد کی تعریف اور ان میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کی حد سے متعلق فتویٰ ارسال فرمائیں۔

جواب

فقہاکرام نے بڑی مسجد  کی حد یہ مقرر کی ہےکہ جس مسجد کا رقبہ طولا (لمبائی میں ) چالیس ہاتھ ہو جس کی مقدار انگریزی گز کے حساب سے تقریباً بیس20گز یعنی ساٹھ60 فٹ بنتی ہے ، وہ بڑی مسجد  کہلائے گی اور جو اس سے کم ہو تو وہ " چھوٹی مسجد" کہلائے گی ۔البتہ عرضاً (چوڑائی میں ) مذکورہ مقدار کا ہونا ضروری نہیں ،کیونکہ مقصود یہ ہے کہ نمازی کے سامنے اتنے فاصلے سے گزرے ، جس سے اس کے خشوع و خضوع میں خلل واقع نہ ہو اور خلل کے واقع ہونے یا نہ ہونے میں طول کااعتبار ہے نہ کہ عرض کا ۔ کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے میں بڑی مسجد  اور چھوٹی مسجد  کے حکم میں یہ فرق ہے کہ بڑی مسجد  میں دو یا تین صف چھوڑ کر نمازی کے آگے سے گزرنے کی اجازت ہے جب کہ چھوٹی مسجد  میں سترہ کے بغیر گزرنے کی ا جازت نہیں۔

 

(‌قوله ‌ومسجد ‌صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر قهستاني (قوله فإنه كبقعة واحدة) أي من حيث إنه لم يجعل الفاصل فيه بقدر صفين مانعا من الاقتداء تنزيلا له منزلة مكان واحد، بخلاف المسجد الكبير فإنه جعل فيه مانعا فكذا هنا يجعل جميع ما بين يدي المصلي إلى حائط القبلة مكانا واحدا، بخلاف المسجد الكبير والصحراء فإنه لو جعل كذلك لزم الحرج على المارة، فاقتصر على موضع السجود.( ردالمحتار على الدرالمختار،باب مايفسدالصلاة وما يكره فيها...فروع مشى المصلي مستقبل القبلة،ج:1،ص:634)

ولم ‌يذكر ‌في ‌الكتاب قدر المرور، واختلف المشايخ فيه قال بعضهم: قدر موضع السجود، وقال بعضهم: مقدار الصفين، وقال بعضهم: قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع، وفيما وراء ذلك لا يكره وهو الأصح.(بدائع الصنائع ،كتاب الصلاة ، فصل بيان مايستحب في الصلاة ومايكره، ج:1،ص:217)


فتویٰ نمبر : 10849/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں