بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
وطن اصلی کا باطل ہونا
سوال
محترم مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہم شمالی وزیرستان کے رہائشی ہیں، لیکن سن 2014 میں فوجی آپریشن کی وجہ سے ہمیں اپنے علاقے سے نقل مکانی کرنی پڑی۔ ہم اپنا گھر بار اور جائیداد وہیں چھوڑ کر بنوں، لکی مروت اور دیگر علاقوں میں ہجرت کر گئے۔ اب تقریباً 10 سال کا عرصہ بیت چکا ہے کہ ہم اپنے اصل علاقے سے باہر رہ رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال: ہمارے مکانات، زمینی جائداد اور باغات اب بھی وہیں (شمالی وزیرستان) موجود ہیں۔ ہم وہاں مستقل جا کر نہیں رہ سکتے کیونکہ فوج کی جانب سے علاقہ ابھی تک مکمل کلیئر قرار نہیں دیا گیا اور رہائش کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ، بعض مخصوص ضروریات (مثلاً میت کی تدفین یا چلغوزے کی فصل کٹوانے) کے لیے ہم باقاعدہ سرکاری اجازت (Entry) لے کر چند دنوں (مثلاً ایک دن سے لے کر دس دن تک) کے لیے وہاں جاتے ہیں۔ اختلافِ رائے: اس صورتحال میں وہاں نماز کے بارے میں مقامی علماء میں دو آراء پائی جاتی ہیں: ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ وہاں ہمارے گھر اور جائیداد موجود ہیں، اس لیے وہ اب بھی ہمارا "وطنِ اصلی" ہے اور وہاں پوری نماز پڑھنی ہوگی۔ دوسری رائے یہ ہے کہ 10 سال سے باہر رہنے اور وہاں مستقل رہائش کے امکانات نہ ہونے کی وجہ سے اب وہ ہمارا وطنِ اصلی نہیں رہا، لہذا وہاں قصر کرنا ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ : شرعی راہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورت میں جب ہم چند دنوں کے لیے اپنے اس علاقے میں جائیں تو: ہمیں نماز قصر کرنی چاہیے یا پوری (اتمام) پڑھنی چاہیے؟ کیا طویل عرصے کی دوری اور واپسی کے یقینی نہ ہونے سے "وطنِ اصلی" حکم ختم ہو جاتا ہے جبکہ جائیداد وہیں موجود ہو؟براہ کرم قرآن و سنت اور معتبر کتبِ فقہ ( فقہِ حنفی) کے حوالہ جات کے ساتھ مفصل جواب عنایت فرمائیں تاکہ عوام الناس کے سامنے اسے ایک مستند فیصلے کے طور پر پیش کیا جا سکے اور موجودہ اختلاف ختم ہو۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص بمع اہل وعیال وطن اصلی کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں مستقل طور پر سکونت اختیار کرے اور آئندہ اس وطن میں نہ آنے کا عزم کرے تو جائیداد اور رشتہ داروں کے ہوتے ہوئےبھی اس شخص کا وطن اصلی باطل ہو جاتا ہے اور دوسرا علاقہ جہا ں پر اس نے مستقل رہائش اختیار کی ہو وہ وطن اصلی کہلاتا ہے۔
صورت مسئولہ میں دو احتمال ہیں:
1۔ پہلا یہ ہے کہ دونوں جگہ (شمالی وزیرستان،بنوں) میں اپنا گھر ہو اور دوبارہ وہاں (شمالی وزیرستان) جانے اور رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو، تو اس صورت میں شمالی وزیرستان اور بنوں دونوں وطن اصلی ہو کر دونوں جگہ پوری نماز پڑھے گا، تاہم طویل عرصے کی دوری اور واپسی کے یقین نہ ہونے سے "وطنِ اصلی" کا حکم ختم نہیں ہو جاتا ہے بلکہ وطن اصلی چھوڑنے کے لیے مستقل عزم کا ہونا ضروری ہے۔
2۔ دوسرا یہ ہےکہ اگر وہاں (شمالی وزیرستان) دوبارہ جانے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہ ہو، تو اس صورت میں وطن اصلی (شمالی وزیرستان) باطل ہو کر بنوں وطن اصلی ہو گیا اب اگر وہاں (شمالی وزیرستان) جانے اور 15 دن سے کم رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو تو اس صورت میں قصر کرے گا لیکن اگر 15 دن سے زیادہ رہائش کا ارادہ ہو تو پھر پوری نماز پڑھے گا۔
والأصلي لا ينتقض إلا بالانتقال عنه واستيطان آخر كما قلنا لا بالسفر ولا بوطن الإقامة، ووطن الإقامة ينتقض بالأصلي ووطن الإقامة والسفر۔ (فتح القدير، کتاب الصلاة، باب المسافر، ج: 2، ص: 43 )
(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 2، ص:132/131(
ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول ويتم فيهما ولا يبطل الوطن الأصلي بإنشاء السفر وبوطن الإقامة ووطن الإقامة يبطل بوطن الإقامة وبإنشاء السفر وبالوطن الأصلي. ( الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الخامس عشر في صلوة المسافر، ج:1، ص:142 )
(قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل. ( رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلوة،مطلب في وطن الأصلي ووطن الإقامة،ج:2،ص:614 )
ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نيةأهله الخروج منها.(بدائع الصنائع،كتاب الصلوة،فصل في بيان مايصير به المسافر مقيما ،ج:1،ص:498)
ولا ينتقض الوطن الأصلي بوطن الإقامة ولا بوطن السكنى؛ لأنهما دونه، والشيء لا ينسخ بما هو دونه، وكذا لا ينتقض بنية السفر…. (ووطن) الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي؛ لأنه فوقه، وبوطن الإقامة أيضا؛ لأنه مثله، والشيء يجوز أن ينسخ بمثله، وينتقض بالسفر أيضا…. ولا ينتقض وطن الإقامة بوطن السكنى؛ لأنه دونه فلا ينسخه. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلوة، فصل في بيان ما يصير المسافر به مقيما، ج:1، ص: 104)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں