بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بائع کا مشتری سے بیعانہ لینا اور پھر واپس نہ دینا


سوال

السلام علیکم ! ہمارے پڑوس میں ایک شخص نے دوسرےزمین خریدی لیکن اس شخص نے کچھ رقم بیعانہ کے طور پر دے دی ، اور یہ کہا کہ اگر مشتری یہ زمین نہ خریدا تو جو رقم بیعانہ میں اس نے دیا ہے ،وہ بائع کے لئے مفت میں رہے گا اور مشتری واپس لینے کا مطالبہ نہیں کریگا،کیا ایسا معاملہ کرنااور یہ شرط لگا نا ٹھیک ہے یا نہیں؟ جواب درکار ہے ، شکریہ۔

جواب

 شريعت مطہرہ کی روسے جس طرح نقد خرید و فروخت درست ہے اسی طرح قسطوارخریدوفروخت بھی جائز ہے، نیزنقد کے مقابلے میں قسطوارکی قیمت زیادہ رکھنا بھی جائز ہے۔ البتہ قسطوارکی صورت میں ادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین ضروری ہے۔اورمقررکردہ قیمت سے زیادہ رقم لینا سود کے زمرے میں داخل ہو نےکی وجہ سے شرعا نا جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی خریدار کو کوئی چیز قسطوں پر، ایک متعین مدت کے ساتھ، نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پرفروخت کرے، اور خریدار طے شدہ مدت پر ادائیگی نہ کرے بلکہ تاخیرکرے،تو شرعا اس تاخیر کی وجہ سے اس سے اضافی رقم کا مطالبہ کرنا سود کے زمرے میں داخل ہو نے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔

 

البيع ‌مع ‌تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط۔(شرح مجلة الأحکام العدلیة لسلیم رستم باز ، رقم المادة:246/245، ص:125)

مقابلة الأجل بالدراهم ربا، ألا ترى أن في الدين الحال لو زاده في المال ‌ليؤجله ‌لم ‌يجز۔(المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع،

باب العيوب في البيوع،ج: 13، ص:142)


فتویٰ نمبر : 4021/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں