بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

باپ کی دکان میں بیٹوں کا مل کر کام کرنا


سوال

ایک شخص کے چار بیٹے ہیں جو کہ جوائنٹ فیملی ہے، اوروالد کی اپنی ایک دکان ہے، جس میں والد سمیت سب کام کرتے ہیں، بعض زیادہ کام کرتےہیں اور بعض کم کرتے ہیں، ان کے والد نے ایک زمین خریدی جس میں اسی دکان سے پیسے لے کرزمین والے کو دی ،اب اگر یہ والد وفات ہوجائے تو یہ زمین اس کا ترکہ شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ والد کی زندگی میں جو بیٹے والد کے کاروبار میں اس کے ساتھ تعاون کرکے کوئی کمائی کر لیں تو وہ سب والد کی ملکیت شمار ہوگی، اوروالد کے مرنے کے بعد یہ اس کا ترکہ شمار ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگربیٹوں نے والد کی دکان میں اس کے ساتھ کام کیا ہو تواس دکان کی کمائی والد کی ملکیت شمار ہوگی اور بیٹے والد کے ساتھ معاون اور مددگار شمارہونگے،چنانچہ والد نےاس کمائی ہوئی رقم سے اگرکوئی زمین خریدی ہو اور والد وفات ہوجائے تو یہ خریدی ہوئی زمین والد کا ترکہ شمار ہوگا۔لہذا یہ اس کی موت کے وقت زندہ ورثاء کے درمیان شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم  ہوگا۔

 

أب ‌وابن ‌يكتسبان ‌في ‌صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له، ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب.( الفتاوى الهندية، كتاب الشركة،شركة الأعمال، ج:2، ص:329)


فتویٰ نمبر : 4009/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں