بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیماری کی وجہ سے پیشاب کی تھیلی لگی ہونے کی صورت میں وضو اور نماز کا حکم


سوال

گزارش یہ ہے کہ میرے والد دو سال سے کافی بیمار ہیں ان کو پیشاب کا پتہ نہیں چلتا، پیشاب کے واسطہ تھیلی لگائی ہوئی ہے،تو اس صورت میں وہ  طہارت  اور نماز کس طرح اداکرے گا؟جو طریقہ ہو وہ بتائیں آپ کی مہربانی ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ جب تک ہوش و حواس برقرار ہوں نماز پڑھنا لازم اور ضروری ہے تاہم سائل نے والد صاحب  کی بیماری کی جو صورت بیان کی ہے اگر یہ بیماری اسے اس قدر تسلسل کے ساتھ لاحق ہو کہ اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اسے اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گا،لہذا  وہ ہر نماز کے لیے وضو کر کے اسی حالت میں نماز ادا کر سکتا ہے،تاہم نماز کے دوران اس بیگ کو اپنے جسم سے الگ کر کے زمین پر رکھےگا۔

 

والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يزقلأ ‌يتوضئون ‌لوقت ‌كل ‌صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل فإذا خرج الوقت بطل وضوءهم وكان عليهم استئناف الوضوء لصلاة أخرى.( مختصر القدوري، كتاب الطهارة، باب الحيض، ص: 20 )

المستحاضة ‌والمبطون ‌الذي ‌لا ‌ينقطع استطلاق بطنه ومن به سلس البول أو سقوط الدود أو انفلات الريح فإن طهارة هؤلاء تتقدر بالوقت لأجل العذر.( المبسوط للسرخسي، كتاب الطهارة، باب المستحاضة، ج:2، ص:139 )

فروع: ‌يجب ‌رد ‌عذره ‌أو ‌تقليله ‌بقدر ‌قدرته ولو بصلاته موميا، وبرده لا يبقى ذا عذر، بخلاف الحائض.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ص:46 )

(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر) وصرح في القنية بفسقه باعتياده (وإدخال نجاسة فيه) وعليه (فلا يجوز الاستصباح بدهن نجس فيه) ولا تطيينه بنجس (ولا البول) والفصد (فيه ولو في إناء) ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره. ( قوله وإدخال نجاسة فيه) عبارة الأشباه: وإدخال نجاسة فيه يخاف منها التلويث. اهـ. ومفاده الجواز لو جافة، لكن في الفتاوى الهندية: لا يدخل المسجد من على بدنه نجاسة.( رد المحتار، كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:656 )

وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) ‌بأن ‌لا ‌يجد ‌في ‌جميع ‌وقتها ‌زمنا ‌يتوضأ ‌ويصلي ‌فيه ‌خاليا ‌عن ‌الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة(وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لانه الانقطاع الكامل. (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالاولى.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الطهارة باب الحيض، ص:45 )


فتویٰ نمبر : 10845/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں