بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کو ہبہ کی گئی بکریاں واپس لینا


سوال

ہمارے والد صاحب نے اپنا ترکہ (مال)  ہمارے درمیان تقسیم کیا تھا، جس میں کچھ بکریاں بھی شامل تھیں۔ تقسیم کے بعد ہر بھائی کے حصے میں چار چار بکریاں آئیں۔ میں نے اپنے حصے کی بکریاں بیچ دیں اوران کی رقم خرچ بھی کر چکا ہوں۔اب والد صاحب اُن بکریوں کو واپس لینا چاہتے ہیں۔سوال یہ ہے: کیا شرعاً والد کو اپنی دی ہوئی چیز(بکریاں) واپس لینے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہبہ کرنے والے نےجس شخص کو ہبہ دیا ہواگر وہ اس کا ذی رحم محرم رشتہ دار ہوتواس سے واپس لینے کاحق نہیں رکھتا ۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر والد نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان بکریاں تقسیم کی ہوں، اور ہر بیٹے کو چار چار بکریاں ملی ہوں، تو والد کو شرعاً وہ بکریاں واپس لینے کا شرعا حق حاصل نہیں ۔

 

 وإن وهب هبة ‌لذي ‌رحم ‌محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة ‌لذي ‌رحم ‌محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل "۔(الهداية،كتاب الهبة،باب الرجوع في الهبة،ج:3، ص:292)

من وهب لأصوله وفروعه أو لأخيه أو لأخته أو لأولادهما أولعمه أو لعمته أو لخاله أو لخالته شيئا فليس له الرجوع.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:866،ص:476)


فتویٰ نمبر : 6583/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں