بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دھمکی طلاق سے طلاق کا وقوع


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے کہ "رابعہ سمہ شہ گورے درکومہ طلاق"( رابعہ، ٹھیک ہو جاؤ ورنہ میں طلاق دیتاہوں) تو کیا ایسے الفاظ کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ماضی یا حال کے صیغے سے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے،جب کہ مستقبل کے صیغے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔لہذا اگر کوئی یہ کہے کہ "رابعہ سمہ شہ گورے درکومہ طلاق"(رابعہ ٹھیک ہو جاؤ ورنہ میں طلاق  دیتاہوں)تو پشتو زبان میں   یہ مستقبل  میں طلاق دینے کی دھمکی ہے، اس لیےاس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

 

‌وليس ‌منه ‌أطلقك ‌بصيغة ‌المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير.(البحر الرائق شرح کنزالدقائق،کتاب الطلاق،باب الفاظ الطلاق،ج:3،ص:271)

في المحيط ‌لو ‌قال ‌بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الفصل السابع فى الطلاق بألفاظ الفارسية،ج:1،ص:384)


فتویٰ نمبر : 7346/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں